1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منصفانہ تجارت: یہ ہے کیا؟

جرمنی میں صارفین کی آگاہی کی سطح قدرے کم ہے۔ اس تناظر میں یہاں ڈسکو میں موسیقی بجانے والے ایک ’ڈی جے‘ لوِس وِلینبیرگ نے فیئر ٹریڈ یعنی منصفانہ تجارت کی مارکیٹ کے فروغ کی ٹھانی ہے۔

default

منصفانہ تجارت دراصل روایتی تجارت کا متبادل ہے، جس کا انحصار صارف اور پروڈیوسر کے مابین شراکت پر ہے۔ اس اصول کے تحت کسی پراڈکٹ یا خام مال کو سستے داموں حاصل کرنے کے بجائے، اس کے لئے کم سے کم ایک ایسی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے، جس سے معیاری مصنوعات بنانے پر خرچ ہونے والی اوسط رقم حاصل ہو سکے۔

لوِس وِلینبیرگ پیشے سے ایک ’ڈی جے‘ ہیں۔ وہ برلن میں ایک میوزک اسٹور بھی چلا رہے ہیں۔ لیکن انہیں محض موج مستی کا ہی شوق نہیں۔ حال ہی میں انہوں نے برلن ہی میں ایک فیئر ٹریڈ مارکیٹ کا اہتمام کیا،

Deutschland Bundeskartellamt Kaffee Symbolbild

جس میں 60 سے زائد ریٹیلرز اور اداروں نے حصہ لیا۔ اسے ہیلڈین مارکٹ کا نام دیا گیا، جس میں فیشن، فرنیچر انڈسٹری اور کافی کے اسٹالز لگائے گئے۔

آج کے دَور میں بیشتر افراد منصفانہ اصولوں کے تحت بنائی گئی پراڈکٹس میں دلچسپی تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی قیمتیں روایتی اشیاء سے کچھ زیادہ ہونے کی وجہ سے جب خریدنے کی بات آتی ہے، تو وہ سستی اشیا کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم ہیلڈین مارکٹ کے منتظم لوِس ویلینبیرگ کے مطابق صارفین کو سمجھنا ہوگا کہ کافی کی زیادہ قیمت اس کی پراڈکشن کے عمل میں شامل افراد اور کمیونٹیوں پر کیا اثر رکھتی ہے۔

لوِس ویلینبیرگ کہتے ہیں، ’ہو سکتا ہے کہ ایک بچے کو کھیت میں کام کرنا پڑے۔ اگر آپ فیئر ٹریڈ کافی خریدتے ہیں، تو وہی بچہ اسکول بھی جائے گا جبکہ اس کے خاندان کو ہیلتھ انشورنس اور دیگر سہولتیں بھی ملیں گی۔ ان سب باتوں کا تعلق معلومات سے ہے، کیونکہ عام طور پر آپ کافی تو خریدتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتے۔ ایسا اس لئے ہے، کیونکہ آپ یہ نہیں جانتے یہ کافی کہاں اور کن حالات میں بنائی گئی۔‘

فیئر ٹریڈ کمپنی GEPA کے منیجنگ ڈائریکٹر روبن رُوتھ کہتے ہیں کہ فیئرٹریڈ اشیا کی فروخت کا تناسب مختلف ممالک میں مختلف ہے، 'سوئٹزرلینڈ میں بکنے والے 50 فیصد کیلے کی پیداوار فیئر ٹریڈ کے تحت عمل میں آتی ہے۔ انگلینڈ میں 20 فیصد روسٹ کافی انہی اصولوں کے تحت بنتی ہے۔ جرمنی اس حوالے سے ان دونوں ممالک کی منڈیوں سے پیچھے ہے۔ آپ اس میدان میں جرمنی کو کسی حد تک ناکام قرار دے سکتے ہیں۔ یہاں فروخت کی جانے والی ایک فیصد سے بھی کم کافی فیئرٹریڈ سے آتی ہے جبکہ کافی ایک انتہائی اہم پراڈکٹ ہے۔‘

تاہم اس حوالے سے کافی واحد پراڈکٹ نہیں۔ لوِس ولینبیرگ ٹریڈ فیئر سے متعدد مصنوعات برلن کے شہریوں میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ وہ اس نوعیت کی آئندہ مارکیٹ کا اہتمام اگلے چھ ماہ میں کرنے والے ہیں۔

ان کی مثال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہیلڈین مارکٹ کی طرز پر فیئر ٹریڈ کے فروغ کے لئے جاری سرگرمیوں سے منصفانہ اصولوں کے تحت بنائی گئی بیشتر مصنوعات تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی ہوگی۔ اگر زیادہ لوگ ایسی اشیا خریدیں گے تو یہ بات یقینی ہے، کہ یہ مصنوعات سستے داموں بھی بیچی جا سکیں گے۔

رپور‌ٹ: سینامن نپارڈ / ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM