1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

منشیات کے نتیجے میں بڑھتی اموات پر تشویش، نئی یورپی رپورٹ

بر اعظم یورپ غیر قانونی منشیات کی ایک بڑی منڈی ہے۔ یہ بات تازہ ’یورپی ڈرگ رپورٹ‘ میں کہی گئی ہے، جس میں ماہرین نے یورپ میں مصنوعی منشیات کی تیاری اور منشیات کے نتیجے میں بڑھتی اموات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

نئی ’یورپی ڈرگ رپورٹ‘ میں جہاں اور بہت سی تفصیلات بتائی گئی ہیں، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اندازاً تریانوے ملین یورپی باشندوں نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر غیر قانونی منشیات استعمال کی ہیں۔ یہ تعداد یورپی یونین کے پندرہ تا چونسٹھ سال کے باشندوں کی مجموعی تعداد کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2015ء میں یورپی یونین کے اندر منشیات سے جُڑے 1.5 ملین جرائم کا اندراج ہوا۔ اِن میں سے ایک ملین جرائم وہ تھے، جن میں ملزمان کے پاس سے ایسی منشیات ملیں، جو اُن کے ذاتی استعمال کے لیے تھیں۔

Lettland Riga Cannabis Marihuana Drogen Narcologic Aid Service (DW/G. Gelzis)

اس رپورٹ کے مطابق سخت تر قوانین کے باعث یورپ میں مصنوعی طریقے سے منشیات کی تیاری کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے

ایک سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ایک ملین جرائم میں سے تقریباً نصف کا تعلق حشیش سے تھا، جو کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے۔ گزشتہ برس اندازاً چوبیس ملین یورپی باشندوں نے حشیش استعمال کی۔

یورپی یونین کے مختلف رکن ملکوں میں حشیش کے استعمال کے حوالے سے رویوں میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ ہالینڈ، اسپین، پرتگال اور چیک ری پبلک میں منشیات کے حوالے سے پالیسیاں زیادہ آزاد خیال ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں نشہ کرنے والے افراد کو سزا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں لیتھوینیا، سلوواکیہ اور یونان میں بڑی مقدار میں حشیش برآمد ہونے کی صورت میں متعلقہ شخص کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مثلاً ایک کلوگرام (پینتیس اونس) منشیات برآمد ہونے کی صورت میں دس سال تک کی سزائے قید ہو سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں مصنوعی طریقے سے تیار کی جانے والی نشہ آور مصنوعات کی یورپ بھر میں آسانی سے دستیابی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے تاہم جہاں 2015ء میں ایسی مصنوعات کی تعداد اٹھانوے ریکارڈ کی گئی تھی، وہاں 2016ء میں یہ تعداد محض چھیاسٹھ رہی۔ ماہرین کے مطابق ان مصنوعات کی تعداد میں کمی سخت تر قوانین کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔

یہ ڈرگ رپورٹ یورپی مانیٹرنگ سینٹر فار ڈرگز اینڈ ڈرگ ایڈکشن (EMCDDA) کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس کا ہیڈکوارٹر پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہے۔ اس ادارے سے وابستہ اینڈریو کننگھم کے مطابق پولینڈ، آئرلینڈ، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک نے مصنوعی طریقے سے نشہ آور مصنوعات کی تیاری کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے، جس کی وجہ سے اب وہاں یہ مصنوعات صرف بلیک مارکیٹ میں ہی دستیاب ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی طریقے سے پیدا ہونے والی منشیات کے مقابلے میں مصنوعی طریقے سے تیار ہونے والی نشہ آور مصنوعات زیادہ ا موات کا باعث بن رہی ہیں۔ تیس یورپی ممالک سے جمع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق 2015ء میں کم از کم  8441  افراد زیادہ مقدار میں نشہ استعمال کرنے کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے گئے۔ 2014ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ تھی۔ جرمنی میں 2015ء میں منشیات کے نتیجے میں اموات کی تعداد 2014ء کے مقابلے میں تقریباً بیس فیصد کے اضافے کے ساتھ 1226 ریکارڈ کی گئی۔

اکتوبر 2015ء میں چین میں بھی مصنوعی طریقے سے تیار ہونے والی ایک سو سے زائد نشہ آور مصنوعات کی تیاری غیر قانونی قرار دیے جانے کے نتیجے میں بھی ایسی مصنوعات کو بیچنے اور خریدنے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔