1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام: 21 نکات پر اتفاق

پاکستان ایران اور افغانستان نے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پرمشترکہ آپریشن کے معاملے میں سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔

default

افغانستان: افیون کی جگہ زعفران کے کاروبار کی کوششیں

پاکستان اور افغانستان نے مستقبل میں اس حوالے سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی ) کے تعاون سے اسلام آباد میں پاکستان ،ایران اور افغانستان کے اعلیٰ عہدیداروں نے دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر اکیس نکاتی اعلامیہ بھی جاری کیا۔ ان نکات میں سرحد پار منشیات سمگلنگ کی روک تھام کے لئے لائزان آفیسر تعینات کرنے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات کے کردار کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سہ روزہ کانفرنس میں پاکستان اور ایران نے سرحد پر منشیات کی روک تھام کے لئے مشترکہ آپریشن کرنے پر بھی اتفاق کیا لیکن پاکستان اور افغانستان میں یہ اتفاق نہیں ہو سکا۔

Peshawar - Drug and Heroin addicts

پشاور منشیات کے عادی افراد کا گڑھ

پاکستان کے سیکرٹری انسداد منشیات طارق کھوسہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل طے پانا ایک اہم پیش رفت ہے انہوں نے کہا ”اس کانفرنس میں ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ اور ایک فعال عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ تینوں ملکوں کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے اکیس نکات پر مشتمل یہ ایکشن پلان آج تینوں وزراء ایگزیکٹو ڈائریکٹر یو این او ڈی سی نے منظور کیا ہے۔ اس پر ایک اسلام آباد میں ڈیکلریشن پر دستخط ہو گئے ہیں" ۔

منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لئے گزشتہ برس تہران میں معلومات کے تبادلے کے لئے جو مرکز قائم کیا گیا تھا اس کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی جائے گی۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوری ٹیڈ ٹوف نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ نہ صرف انسان دشمنی ہے بلکہ اسکی سمگلنگ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے جن علاقوں میں پوست کی کاشت ہوتی ہے وہیں پر دہشت گردی کی کارروائیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا ” منشیات کی بڑے پیمانے پر کاشت اور پیداوار چار صوبوں میں ہوتی ہے اور یہی وہ افغان صوبے ہیں جہاں زیادہ عدم استحکام ہے اور حکومتی عملداری مضبوط نہیں۔ اسی لئے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ میں ایک واضح تعلق ہے۔“

Drogenkonsum im Iran

ایران میں منشیات کا استعمال ایک اہم سماجی مسئلہ

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پوست اور ہیروئن کی عالمی پیداوار کا نوے فیصد افغانستان میں پیدا کیا جاتا ہے جسے پاکستان اور ایران کے راستے دیگر ممالک خصوصا مغربی ممالک کو اسمگل کیا جاتا ہے۔ اسی لیے انسداد منشیات کے لئے تینوں ممالک کے درمیان جس مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا ہے اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ منشیات کی رسد کے ساتھ ساتھ اس کی طلب کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی پاک افغان اور ایرانی سرحد پر منشیات اور اسلحے کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں لیکن ان کے زیادہ حوصلہ افزاء نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ تینوں ممالک کے درمیان انسداد منشیات کے حوالے سے پانچویں وزارتی کانفرنس اگلے سال نومبر کے مہینے میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوگی۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت، کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس