1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منشیات، بھارت میں ایڈز کی ایک بالواسطہ وجہ

ان لوگوں کے کپڑے گندے تھے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں اور ان کے بازؤوں اور ٹانگوں پر ٹیکوں کے نشانات تھے، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ نشہ کرتے تھے اور انہیں یہ بھی امید تھی کہ وہ ایک بار پھرمعمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔

default

ان میں سے ایک درجن کے قریب افراد دریائے یمونا کے کنارے واقع عمارت میں قائم ایک امدادی ادارے "شرن" میں آرام کی غرض سے بیٹھے تھے، جہاں وہ استعمال شدہ سرنجوں کی تبدیلی اورعلاج کے لئے جمع ہوتے تھے۔ لیکن اس ادارے کی جانب سے ان کی مدد کرنے کا بنیادی مقصد انہیں ایچ آئی وی ایڈز سے بچانا تھا۔

Indien AIDS Blutuntersuchung in Kalkutta

بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو اعشاریہ پانچ ملین ہے

بھارتی وزارت صحت کے مطابق جنوبی افریقہ اور نائجیریا کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں ایچ آئی وی ایڈز سےبڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں جن کی تعداد دو اعشاریہ پانچ ملین ہے۔ ان میں سے منشیات کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد صرف 18 ہزار ہے۔ انجکشنز کے ذریعے ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہونے والوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، 2007 میں یہ تناسب سات عشاریہ دو فیصد تھا جو 2008 میں 9 عشاریہ 2 فیصد تک پہنچ گیا۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس شرح میں مزید اضافہ بھی ہوا ہو۔

امدادی ادارے "شرن" کا اہلکارشباب عالم کہتا ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کے لئے اب مسئلہ بن رہی ہے ۔ "ہمارے پاس آنے والوں میں سے اکثر کو یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں انہیں ایڈز تو نہیں ؟ اس لئے ہم نہ صرف ان کا علاج کرتے ہیں بلکہ ان کومشورے بھی دیتے ہیں۔"

Kaffee Bauer in Äthiopien

انجکشنز کے ذریعے ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہونے والوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے

ایک شخص جو اپنا نام نہیں بتا رہا تھا ، نے کہا کہ وہ 20 سال پہلے نئی دہلی آیا، اس وقت وہ نوجوان تھا ۔ جب اس کو کہیں بھی ملازمت نہیں ملی تومایوس ہو کر اس نے نشہ شروع کیا۔ ہیروئن، پین کلر، اور ڈپریشن ختم کرنے والی دوائیاں، حتیٰ کہ نشے کی جو بھی چیزاسے ملی، اس نے استعمال کی۔ اب وہ اس سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اسے ایڈز نہ ہو جائے۔

کچھ سال پہلے تک منشیات کی وجہ سے ایڈز پھیلنے کے واقعات ملک کے شمال مشرقی علاقے منی پور، جو میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے، میں زیادہ تھے۔ یہ علاقہ علٰیحدگی پسند فسادات سے بہت زیادہ متاثرہوا ہے۔ وہاں دہلی سے 2500 کلو میٹر دور1980ء کی دہائی میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے میانمار کی لیبارٹریوں سے ہیروئن کی سمگلنگ کے دوران اس کو پینابھی شروع کیا۔ ان میں سے بہت سوں نے آپس میں سرنجز کا تبادلہ کیا اور یوں انہیں ایچ آئی وی ایڈزہوگیا۔

AIDS in Indien

حاملہ ماں کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کے باعث ان سے پیدا ہونے والے بچوں میں بھی یہ بیماری منتقل ہو جاتی ہے

محققین کا کہنا ہے کہ 1990ء تک ان میں سے دو تہائی افراد مکمل طور پر اس مرض میں مبتلا ہو گئے اوران میں سے اکثر تو مرہی گئے۔ بھارتی وزارت صحت و بہبود آبادی کے سیکرٹری سجاتا راؤ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ جو اس وقت بہت دور تھا اب ان کے انتہائی قریب آ پہنچا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ غیر سرکاری اداروں کے تعاون سے شمال مشرقی علاقوں میں تو صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن دہلی اور شمالی ریاستوں، پنجاب اور ہریانہ میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ صورتحال ان کے لئے نئی ہے اور وہ نہیں جانتی کہ منشیات کے استعمال میں ہونے والے اس اضافے کو کیسے روکا جائے تاہم حکومت نے دو عشاریہ 4 بلین ڈالر سے چلنے والےپانچ سالہ "ایڈز کنٹرول پروگرام" کے تحت پہلے قدم کے طور پر انجکشن کے ذریعے میشیات استعمال کرنے والوں کوخطرناک قرار دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت انجکشن کے بجائے نشے کے متبادل طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کو کہا جا رہا ہے کہ وہ سرنج کے بجائے منہ کے ذریعے متبادل ڈرگز استعمال کریں تو اس سے وہ ایچ آئی وی ایڈز سے بچ سکیں گے۔

Deutschland Radsport Doping Probe

ایڈز کی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے

سجاتا راؤکہتی ہیں کہ بھارت میں ایسے 220 کے قریب مراکز یہ سروس فراہم کر رہے ہیں لیکن ان کو حکومتی سرپرستی میں لانا ایک مشکل کام تھا۔ کیونکہ کافی عرصے تک بیوروکریٹس نے اس لئے اس کو نظر انداز کیا کہ ان کے خیال میں نشے کے لئے متبادل ذرائع استعمال کرنے سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ لیکن شباب عالم کا تجربہ اس سے مختلف ہے، اس کا خیال ہے کہ اس پروگرام میں وہ لوگ شریک ہوتے ہیں جو کافی عرصے سے نشہ کر رہے ہوں، ان کے لئے حوصلہ افزائی کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔ "شرن" کے دفتر میں منشیات کے عادی یہ افراد ادارے کے اہلکاروں کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں ،کہ وہ انہیں نشے کی گولیاں دیں گے۔ شباب عالم کہتا ہے کہ یہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے سامنے ہی وہ دوائی منہ میں ڈالیں گے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس کو اپنے پاس رکھیں اور بعد میں بیچ ڈالیں۔ اب ان میں سے بہت سوں کا خیال ہے کہ یہ علاج انہیں ایڈز سے محفوظ رکھے گا اورشاید انہیں نشے کی لعنت سے بچا بھی سکے۔

رپورٹ : بخت زمان

ادارت : کشورمصطفیٰ