1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

منتظری کی تدفین کے موقع پر جھڑپیں اور پتھراؤ

معروف اصلاحات پسند ایرانی مذہبی رہنما حسین علی منتظری کی پیر کے روز تدفین کے موقع پر ایران میں پولیس اور جنازے میں شریک حکومت مخالف اپوزیشن کارکنوں کے درمیان جھڑپیں عمل میں آئیں۔

default

جنازے میں متعدد ایرانی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی شرکت کی

اپوزیشن کی حامی ایک ویب سائٹ Kaleme.org کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔ قبل ازیں Rahesabz.net نامی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی اپوزیشن کے بڑے اصلاحات پسند رہنماؤں میر حسین موسوی اور احمد کروبی سمیت پورے ملک سے ہزار ہا افراد نے قم میں تہران حکومت پر تنقید کرنے والے آیت اللہ العظمٰی حسین علی منتظری کے جنازے میں شرکت کی۔ کئی شرکاء سبز پٹیاں باندھے ہوئے تھے جو ایرانی اپوزیشن کا رنگ ہے۔

اس سے قبل ایرانی حکومت نے تہران میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا۔ اصلاحات پسند سیاسی کارکنوں کو قم جانے سے روکنے کے لئے جگہ جگہ ناکے لگائے گئے تھے۔ تبریز سے آنے والے بہت سی گاڑیوں کو بھی قم شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
آیت اللہ منتظری کے انتقال کے بعد حکومت نے ایک میڈیا ایڈوائس بھی جاری کی تھی جس کے تحت ملکی اخبارات کو منتظری کے انتقال کی خبر صفحہء اول پر تصویر کے ساتھ شائع کرنے سے منع کر دیا گیا تھا۔

Ayatollah Hossein Ali Montazeri Beerdigung

منتظری کی میت کے اردگرد ان کے عزیزواقارب جمع ہیں

ذرائع ابلاغ کو بظاہر مشورے کے نام پر جاری کئے گئے اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ملکی اخبارات میں صرف منتظری کے انتقال پر دئے جانے والے تعزیتی بیانات شائع کئے جائیں۔
منتظری کی تدفین سے پہلے اصلاحات پسند رہنماؤں میر حسین موسوی اور احمد کروبی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اس حکومت مخالف مذہبی رہنما کے انتقال پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔ ’جرس‘ نامی ویب سائٹ پر ان دونوں رہنماؤں نے کہا تھا کہ ’سوموار کا دن پورے ملک میں یوم سوگ ہو گا، ہم عوام سے علامہ منتظری کے جنازے میں شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔
آیت اللہ منتظری کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ایرانی صوبے اصفہان میں سیکیورٹی دستوں نے بڑے پیمانے پر گشت شروع کر دیا تھا۔ اصفہان اور قم میں سادہ کپڑوں میں مسلح پولیس اہلکار ابھی تک گشت کر رہے ہیں۔

Groß-Ayatollah Hossein Ali Montazeri letztes Bild

آیت اللہ منتظری کی آخری تصویر


کئی خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق کئی ایرانی شہروں میں ابھی تک مظاہروں اور اپوزیشن کارکنوں کی سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ممکنہ جھڑپوں کا خدشہ ہے، اور ان شہروں میں ابھی تک کشیدگی بھی برقرار ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے ایک اہم رہنما گنے جانے والے اور صدر احمدی نژاد کی حکومت پر کھلی تنقید کرنے والے عالم دین حسین علی منتظری ہفتے کی شب اپنی رہائش گاہ پر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
مرحوم منتظری کو بہت زیادہ شہرت اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی کے نائب کے طور پر بھی حاصل ہوئی تھی، تاہم انقلاب کے کچھ عرصہ بعد منتظری اور امام خمینی کے مابین حکومتی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی کے احترام سے متعلق حکومتی رویے کے حوالے سے اختلاف بھی پیدا ہوگئے تھے۔
آیت اللہ منتظری علم و دانش کا مرکز سمجھے جانے والے تاریخی شہر قم میں رہائش پذیر تھے، اور انہیں ملکی سیاست بالخصوص اصلاحات پسند حلقوں میں بہت زیادہ اثر ورسوخ کا حامل سمجھا جاتا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM