1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ممکنہ طور پر ایک ’نیا پارٹیکل‘ دریافت

کیا یہ محض روشنی کا ایک جھماکا تھا یا نئی دریافت؟ دنیا بھر کے سائنسدان اس بات پر انتہائی پر جوش ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا پارٹیکل کولائیڈر ایک بار پھر کام شروع کر رہا ہے۔ انہیں ایک بالکل نئے ذرے کی دریافت کی توقع ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کے قریب زیر زمین واقع لارج ہیڈرون کولائیڈر ’ ایل ایچ سی‘ کو ایک اور پارٹیکل ’ہِگز بوسون‘ کی دریافت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس بالکل نئے ذرے کی دریافت کی تصدیق ہو جا تی ہے تو اس سے طبیعات کے شعبے کے بنیادی نظریات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

نظریاتی طبیعات پر تحقیق کے یورپی مرکز سیرن (CERN) میں قائم کردہ لارج ہیڈرون کولائیڈر کی لمبائی 27 کلومیٹر ہے اور یہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر زیر زمین واقع ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران ایل ایچ سی کی مشینری کو مزید بہتر اور طاقتور بنایا گیا ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں سامنے آنے والی ایک پیشرفت میں ایل ایچ سی میں لگائے گئے دو علیحدہ ڈیٹیکٹرز نے اپنے اپنے طور پر کچھ کمزور سگنلز کا کھوج لگایا تھا۔ ماہرین کے مطابق ان سگنلز کی وجہ ایک بالکل ہی نئے ذرے یا پارٹیکل کا وجود ہو سکتا ہے۔ اس وقت کے بعد سے سائنس دان اس بارے میں نظریات قائم کرنے میں مصروف ہیں۔

لارج ہیڈرون کولائیڈر کی لمبائی 27 کلومیٹر ہے اور یہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر زیر زمین واقع ہے

لارج ہیڈرون کولائیڈر کی لمبائی 27 کلومیٹر ہے اور یہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر زیر زمین واقع ہے

نظریاتی فزکس کے ماہر کسابا کساکی Csaba Csaki نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ دراصل ایک ممکنہ طور پر نئی دریافت کا اشارہ ہے۔‘‘ کساکی ذاتی طور پر اس تجربے میں شریک نہیں ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ اگر یہ واقعی درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر اب تک کی سب سے پر جوش چیز ہو گی جو میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔ ہگز بوسون کی دریافت سے بھی بڑی دریافت۔‘‘

سردیوں کے وقفے کے بعد لارج ہیڈرون کولائیڈر کو 25 مارچ سے کھولا گیا تھا جبکہ ماہرین اسے مئی کے ابتدائی دنوں میں ہی ری اسٹارٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سیرن کے سائنسدان فی الحال اس حوالے سے حفاظتی تجربات کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پارٹیکلز کے دو بڑے بنڈلوں کو آپس میں ٹکرایا جائے گا جس سے امید کی جا رہی ہے کہ اس قدر سائنسی اعداد وشمار جمع ہو سکیں گے جو اس ممکنہ دریافت کی تصدیق یا نفی کر سکیں گے۔ تاہم اس بارے میں حتمی نتائج تک پہنچنے میں سائنسدانوں کو کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس دریافت کے بارے میں حتمی اعلان رواں برس اگست میں شکاگو میں ہونے والی کانفرنس ICHEP میں ممکن ہو سکے گا۔