1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ممکنہ دہشت گردانہ حملے: جرمن شہریوں کی اکثریت خوفزدہ نہیں

ایک تازہ سروے کے مطابق ہمسایہ یورپی ملک بیلجیم میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں جرمنی میں عام شہریوں کی اکثریت اپنے ملک میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خطرات کے باوجود کسی خوف کا شکار نہیں ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے اتوار ستائیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایک تازہ عوامی جائزے کے آج شائع ہونے والے نتائج کے مطابق جرمن شہریوں نے یہ اعتراف تو کیا ہے کہ جرمنی میں اس سال ممکنہ طور پر دہشت گرد کوئی نہ کوئی مسلح حملے کر تو سکتے ہیں تاہم وہ ایسی ممکنہ کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

جرمنی کے کثیر الاشاعت روزنامے ’بِلڈ‘ نے اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھا کہ اس سروے کے لیے مختلف شہروں میں 500 سے زائد نمائندہ شہریوں سے ان کی رائے لی گئی۔ ان میں سے 56 فیصد نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی بھی طرح کی ممکنہ دہشت گردی کے باعث کسی خوف میں مبتلا نہیں ہیں۔

اس کے برعکس 42 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ جرمن معاشرے میں بھی دہشت گردی کا امکان موجود ہے اور وہ اس حوالے سے ذاتی طور پر کسی بھی خونریز حملے کا شکار ہو جانے سے خوف محسوس بھی کرتے ہیں۔

اس عوامی جائزے کے نتائج کے ساتھ ہی روزنامہ ’بِلڈ‘ نے وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے ایک خصوصی انٹرویو کی تفصیلات بھی شائع کیں، جن میں وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ ملکی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملک میں کسی دہشت گردانہ حملے کا کوئی فوری اور شدید خطرہ موجود ہے۔

Deutschland Innenminister Thomas de Maziere

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر

ڈے میزیئر نے کہا، ’’دہشت گردی کے عمومی خطرات میں اضافے کے باعث صورت حال تشویش میں مبتلا کر دینے والی تو ہے لیکن فی الحال ایسے کسی اقدام کی بھی کوئی ضرورت نہیں کہ بڑے عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے جائیں یا اس طرح کے کوئی دوسرے فیصلے کیے جائیں۔

اپنے اس انٹرویو میں جرمن وزیر داخلہ ڈے میزیئر نے تاہم ایک بار پھر اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ یورپی یونین کی سطح پر رکن ملکوں کی سکیورٹی ایجنسیوں کے مابین معلومات کے بہتر اور جلد تبادلے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے اپنے موقف کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ شدید نوعیت کے خطرات کے وقت پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن یا شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ سے کہیں زیادہ اہم خود شہریوں کا تحفظ ہوتا ہے۔‘‘

DW.COM