1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ممکنہ خطرہ‘ کینیڈا میں جہاز زبردستی اتار لیا گیا

کینیڈا کے لڑاکا طیاروں نے ’ممکنہ خطرے‘ کے پیش نظر کیتھی پیسیفیک کے ایک مسافر طیارے کو ہنگامی طور پر وینکوور کے ہوائی اڈے پر اتار لیا۔ شمالی امریکہ کے ہوائی دفاعی کمان NORAD کے ترجمان کے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

default

نوراڈ کے مطابق اس طیارے کی منزل وینکوور کا ہوائی اڈہ ہی تھا، تاہم اسے حفاظتی طور پر ایئر پورٹ کے علیحدہ حصے میں لے جایا گیا۔

’’دوپہر ایک بجکر 40 منٹ پر ہوائی جہاز میں موجود ممکنہ خطرے کے اطلاعات پر نوراڈ کی کمان میں دو سی ایف 18لڑاکا جہازوں نے جہاز کو اترنے کے احکامات دئے۔‘‘

ترجمان کے مطابق لڑاکا طیارے اس وقت تک مسافر طیارے کے ساتھ رہے، جب تک وہ بحفاظت وینکوور کے ہوائی اڈے میں محفوظ جگہ پر پہنچ نہیں گیا۔ رائل کینیڈین پولیس اور ایئر پورٹ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ طیارے میں کس طرح کے خطرے کی اطلاعات تھیں۔

نوراڈ کے ایک اور ترجمان نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کے اترنے کے احکامات تمام ترحفاظتی تدابیر کے ساتھ دئے گئے تھے۔ حکام کے مطابق طیارہ ابھی رن وے پر ہی موجود ہے اور اس میں سے مسافر کو فوری طور پر باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

گزشتہ برس 25 دسمبر کو امریکی شہر ڈیٹرائیٹ میں ہونے والے ناکام حملے کے بعد شمالی امریکہ میں ہوائی جہازوں کے حوالے سے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ نائجیریا کے شہری فاروق عبدالمطلب کو اس حملے میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان کے تہہ جامے سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ فاروق نے دہشت گردی کی تربیت یمن میں حاصل کی تھی۔ الزام ثابت ہو جانے کی صورت میں فاروق عبدالمطلب ہو ممکنہ طور پر عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM