1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’ممنوعہ موضوعات‘ پر بننے والے پاکستانی ٹی وی ڈرامے

پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں روایتی طور پر خاندانی جھگڑوں، خونی زمینی تنازعات یا پھر جنگی ہیروز کو موضوع بنایا جاتا ہے لیکن اب ان کی جگہ ایسے موضوعات لے رہے ہیں، جنہیں پاکستانی معاشرے میں ’شجر ممنوعہ‘ سمجھا جاتا ہے۔

بچوں کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن نور کی پیدائش ہوتے ہی سب کے چہروں پر مایوسی چھا گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نور ایک انٹرسیکس کے طور پر پیدا ہوئی ہے یعنی کہ وہ ایک مخنث(ہیجڑا) ہے۔

باپ اس بچے کو گھر سے باہر نکال دینا چاہتا ہے اور دادا دادی اس بچے کو ہر وقت اپنے رشتہ داروں سے چھپاتے رہتے ہیں۔ صرف ایک والدہ ہے، جو اس بچے کے لیے ہر کسی سے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ سین پاکستانی ڈرامہ ’خدا میرے لیے بھی ہے‘‘ کا ہے۔ یہ ڈرامہ پاکستانی معاشرے میں ایک ایسے موضوع کو پیش کر رہا ہے، جس کے بارے میں کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا۔

اس ڈرامے میں ملکی خواجہ سراء کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جو پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں موجود ہیں۔ تقریباﹰ دو سو ملین نفوس پر مشتمل پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد  دو لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے قابل اعتماد ڈیٹا ابھی تک تشکیل نہیں دیا جا سکا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں خواجہ سراؤں یا ہیجڑوں کو سرکاری دستاویزات میں تیسری جنس کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن معاشرتی سطح پر انہیں ابھی بھی قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرامہ پاکستان کے نجی تفریحی چینل اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ ایسے والدین پر معاشرتی دباؤ کس قدر بڑھ جاتا ہے۔
’منٹو آج بھی زندہ ہے‘

ڈرامے کے ڈائریکٹر شاہد شفاعت کا کہنا تھا، ’’پاکستانی ڈراموں میں اب تک لوگوں کو ہنسنا یا رولایا جاتا تھا لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ لوگ معاشرتی بیماریوں کے بارے میں سوچیں اور ایسے مسائل کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

’خدا میرا بھی ہے‘

شفاعت کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں خوف تھا کہ اس  ڈرامے کا سخت ردعمل سامنے آئے گا لیکن اس کے بارے میں انتہائی مثبت ردعمل ملا۔‘‘

اسی طرح ہم ٹی وی نے حال ہی میں ایک ڈرامہ ’اڈاری‘ نشر کیا، جس میں خونی رشتوں کے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ پچیس ہفتوں تک جاری رہنے والے اس ڈرامے میں ایک ایسے سوتیلے باپ کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو اپنی سوتیلی بیٹی کا استحصال کرتا ہے۔ اس ڈرامے کے بعد کئی لوگوں کی طرف سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو شکایات موصول ہوئیں کہ یہ ڈرامہ معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔

ہم ٹی وی کو موصول ہونے والے پیمرا کے نوٹس میں یہ کہا گیا کہ والدین اس حوالے سے پریشان ہیں اور اخلاقی بنیادیوں پر اسے نامناسب سمجھتے ہیں کہ ایک سوتیلا باپ اپنی سوتیلی بیٹی کی طرف ’غلط نظروں‘ سے دیکھتا ہے۔

اس ڈرامے کے لیے مالی معاونت غیر سرکاری تنظیم کشف فاؤنڈیشن کی طرف سے بھی فراہم کی گئی تھی۔ اس این جی او کی سربراہ روشانہ ظفر کا کہنا تھا کہ ریٹنگ کے حوالے سے یہ ڈرامہ کئی دیگر کے مقابلے میں بہتر رہا ہے۔

DW.COM