1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممتاز قادری کے لیے سزائے موت کا حکم برقرار

سپریم کورٹ نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ’توہین مذہب‘ کے نام پر قتل کرنے والے مجرم ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دو مرتبہ موت کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے اس حصے کو بھی کالعدم قرار دے دیا، جس میں ممتاز قادری پر لگی انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزائے موت ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے تین روز تک مسلسل سماعت کے بعد بدھ کے روز مجرم کی اپیل خارج کی۔

مجرم کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف اور جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے پیروی کی۔ حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف پیش ہوئے۔

DW.COM

ممتاز قادری کے وکلاء نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ ملزم نے مذہبی تقاریر سننے کے بعد گورنر کے قتل کا فیصلہ کیا۔ پولیس نے اس مقدمے میں ان علماء یا مذہبی لوگوں کو شامل نہیں کیا، جن کی وجہ سے قادری نے یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔ وکلائے صفائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین مذہب کے مقدمات میں اگر ریاست فوری طور پر ایکشن لے تو کوئی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ممتاز قادری کو یا تو رہا کیا جائے یا اس کی سزا میں کمی کی جائے کیوں کہ قادری کا سلمان تاثیر سے کوئی ذاتی عناد نہ تھا۔ مجرم اپنی سمجھ کے مطابق نیکی کا کام کر رہا تھا اور وہ اب بھی خود کو معصوم سمجھ رہا ہے۔

سماعت کے دوران تین رکنی بنچ میں شامل ججوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگران دلائل کو درست مان لیں تو اٹھارہ کروڑ انسان اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے لگیں گے۔ کسی ایک شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دے دی جائے تو معاشرے میں افراتفری پھیل جائے گی۔ کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی معلومات کی بنیاد پر توہین مذہب کی تشریح کرے اور پھر خود ہی کسی کو سزا دینے کا فیصلہ بھی کر لے۔ بعض مقدمات میں لوگوں نے اپنے دیوانی مقدمات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے ان پر توہین مذہب کے الزامات لگائے۔ بنچ کا کہنا تھا کہ اگرکسی کو جھوٹی گواہی کی وجہ سے سزائے موت ہو جائے تو تعزیرات پاکستان کے تحت جھوٹے گواہ کی سزا عمر قید ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف نے عدالت کو بتایا کہ ممتاز قادری پر لگنے والی انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزا اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کر دی تھی لیکن ان دفعات کو بحال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممتاز قادری نے خود اقبال جرم کیا ہے، جس کے بعد اس کی سزا میں نہ تو کمی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سزا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد اپنے مختصر فیصلے میں عدالت نے مجرم کو انسداد دہشت گری کی عدالت سے ملنے والی دو مرتبہ سزائے موت کی سزا کو بحال کر دیا۔

پنجاب پولیس کی ایلیٹ پولیس کے اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری دو ہزار گیارہ کو گورنر سلمان تاثیر کو اس وقت سرکاری کلاشنکوف سے فائرنگ کر کہ قتل کر دیا تھا، جب وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ ایک رستوارن سے دن کا کھانا کھا کر باہر نکلے تھے۔ سلمان تاثیر کے حفاظتی سکواڈ میں شامل ممتاز قادری کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس نے گورنر کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ (سلمان) توہین مذہب کے مرتکب تھے۔

Rao Abdul Raheem Mumtaz Qadri LawyersTeam Islamabad Pakistan

ممتاز قادری کے ایک وکیل راؤ عبدالرحیم نے عدالت عظمٰی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

ملزم کو دوہزار گیارہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دو مرتبہ موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ فیصلہ آنے کے بعد ممتاز قادری کے وکلاء کی ٹیم میں شامل ایک وکیل راؤ عبدالرحیم نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں عدالت عظمٰی کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور اس سزا کے خلاف نظر ثانی کا فیصلہ علماء اور قانونی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔‘‘

دوسری جانب سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔