1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممتاز قادری کے حامیوں کا اسلام آباد پر دھاوا، ’فوج طلب کر لی گئی‘

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو ’توہین مذہب‘ کے الزام میں قتل کرنے والے شخص ممتاز قادری کے حامیوں اور پولیس کے درمیان پاکستانی دارالحکومت میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ قادری کو گزشتہ ماہ پھانسی دے دی گئی تھی۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز ممتاز قادری کے قریباً پچیس ہزار حامی راول پنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہو گئے جہاں ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جب کہ قادری کے حامیوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ مقامی میڈیا کی جانب سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ڈی چوک پر آگ بھی لگا دی ہے۔ حکومت نے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ ممتاز قادری کو انتیس فروری کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ قادری پر الزام تھا کہ اس نے صوبہ پنجاب کے سابق سکیولر گورنر سلمان تاثیر کو دن دہاڑے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ قادری تاثیر کا بوڈی گارڈ تھا اور اس کا کہنا تھا کہ تاثیر کو مارنے کی وجہ سابق گورنر کی جانب سے پاکستان کے توہین مذہب سے متعلق قوانین میں ترامیم کا مطالبہ تھا۔ تاثیر کی کوشش تھی کہ توہین مذہب کیس میں زیر حراست مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی امداد کی جا سکے۔

توہین مذہب پاکستان میں انتہائی حساس موضوع ہے۔ مذہبی حلقے اس سے متعلق قوانین میں کسی بھی طرح کے رد و بدل کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ قادری کے جنازے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور حکومتی اہل کار مظاہرین کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ مظاہرین حساس علاقے ’ریڈ زون‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا جس کے باعث صورت حال قابو سے باہر ہو گئی۔ ان کے مطابق حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین راول پنڈی سے اسلام آباد پر دھاوا بول دیں گے۔

DW.COM