1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمدرآمد روک دیا ہے۔

default

ملزم نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دو مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، جو عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے 17 اکتوبر کو جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اقبال حمیدالرحمان اور جسٹس انور کانسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپیل کی سماعت کی۔ اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف ملزم کی جانب سے بطور وکیل پیش ہوئے۔ خواجہ شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ علماء کو بھی اس مقدمے کی کارروائی دیکھنے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی۔

بعدازاں خواجہ شریف نے ابتدائی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’یہ پہلی اپیل تھی۔ یہ ملزم کے استحقاق کے طور پر سماعت کے لیے منظور کی گئی ہے۔ جج صاحب نے اسے منظور کر کے حکم دیا ہے کہ جب تک اس اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ممتاز قادری کی سزائے موت رکی رہے گی‘‘۔

پنجاب پولیس کے سابق کانسٹیبل ممتاز قادری نے چار جنوری کو پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ گورنر کی حفاظت پر مامور اس پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس نے پیغمبر اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کرنے پر سلمان تاثیر کو قتل کیا۔ بعد ازاں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے یکم اکتوبر کو ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ملزم نے پہلے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بظاہر وکلاء کی ترغیب پر اس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن ایک جونئیر جج کے طور پر خواجہ شریف کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ میں کام کرتے رہے ہیں اس لیے اپنے ہی ایک جونئیر جج کے سامنے قتل کے مقدمے میں پیش ہونا درست نہیں۔

تاہم سینئر وکیل جسٹس (ر) طارق محمود کا کہنا ہے کہ خواجہ شریف کا اپنے ہی ایک جونئیر کے سامنے پیش ہونا قانونی سے زیادہ اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ ’’ قانونی اور آئینی طور پر دیکھا جائے تو اس میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں۔ وہ ان کی کوئی معذوری نہیں بنتی۔ اب بات یہ ہے کہ اس کیس کو جو کہ ایک بہت ہی ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے اور پوری قوم اس پر تقسیم بھی نظر آتی ہے، تو اس پر اگر تحفظات ہیں تو وہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ جہاں تک اخلاقی پہلو کا سوال ہے تو یہ ہر ایک شخص پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس چیز کو اخلاقی طور پر درست سمجھتا ہے اور کس کو نہیں‘‘۔

اس سے قبل ممتاز قادری کو سزائے موت سنانے والے جج پرویز علی شاہ کو وکلاء کے دباؤ پر تبدیل کر کے لاہور میں بچوں کی ایک محافظ عدالت کا جج تعینات کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کون کر ے گا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر قتل کیس قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کر گیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ پاکستان کے نظام عدل اور عدالتی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

رپورٹ : شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات