1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ممتاز قادری کو سزائے موت، پاکستانی قوم منقسم

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے پر پاکستان میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض افراد قادری کی سزائے موت جب کہ بعض اس کی رہائی چاہتے ہیں۔

default

سیاسی اور مذہبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان دو مختلف آراء کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو ممتاز قادری کی سزائے موت کے اس لیے خلاف ہے کیوں کہ وہ سرے سے سزائے موت ہی کا مخالف ہے۔ تاہم اس طبقے کا خیال ہے کہ ممتاز قادری کو سزائے موت کی بجائے تاحیات جیل میں رکھا جائے۔

اعتدال پسند نظریات کے حامل مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کی حفاظت پر مامور اہلکار ممتاز قادری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر کی ہلاکت کی وجہ یہ بات بنی کہ وہ توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے کوشاں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ملک میں توہین رسالت کا قانون مذہبی اقلیتوں، سیاسی حریفوں اور ذاتی دشمنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

Blasphemie Gesetz in Pakistan FLASH Galerie

مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر آسیہ بی بی کے ہمراہ

پاکستان کے ایک معروف مذہبی اسکالر اور بنوریہ یونیورسٹی انٹرنیشنل کے شریک بانی مفتی محمد نعیم نے کہا کہ جنوری میں گورنر پنجاب کے قتل کے ذمہ دار ممتاز قادری نے یہ جرم جوش میں کیا اس لیے اسے سزائے موت دینا درست اقدام نہ ہو گا۔

’’میرے خیال میں ممتاز قادری نے یہ قدم انتہائی جذباتیت کے عالم میں اٹھایا، لہٰذا اسے سزائے موت نہیں دینی چاہیے۔‘

مفتی نعیم کے مطابق، ’بے شک ممتاز قادری کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے تھا۔ تاہم اس کا قدم پیغمبر اسلام سے اس کی محبت کا اظہار تھا، جو ہر مسلمان کے دل میں ہے۔‘‘

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ رافیہ ذکریا کے مطابق ممتاز قادری بلکہ کسی بھی شخص کے خلاف سزائے موت ایک انتہائی غیر انسانی قدم ہے۔ ’’ایسی سزا دے کر ایک ریاست موت کو بدلے اور ردعمل کے طور پر استعمال کرتی ہے، جو کسی ریاست کو نہیں لینا چاہیے۔ ممتاز قادری کے لیے عمر قید کی سزا ہونی چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت کے چرچے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب آج دس اکتوبر کو دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمے کا دن بھی منایا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشنل کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان 23 ممالک میں ہوتا ہے، جہاں اب بھی سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ پاکستان میں آخری مرتبہ دسمبر 2008ء میں کسی سزائے موت پر عمل درآمد ہوا تھا۔ اس طرح پاکستان میں گزشتہ 1040 روز سے کسی شخص کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جج سید پرویز علی شاہ نے ممتاز قادری کی جانب سے دائر نظر ثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی موت کی سزا بحال رکھی، جبکہ اس مقدمے کی اب تک کی کارروائی انتہائی سخت سکیورٹی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوئی۔

ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب

ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب

 دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ میں ممبئی حملوں کے واحد زندہ گرفتار کیے جانے والے مجرم اجمل قصاب کی سزا پر نظر ثانی کے حوالے سے دائر کی جانے والی اپیل کے بعد اس کی سزا پر عمل درآمد کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ جج آفتاب عالم نے کہا ہے کہ یہ درخواست ترجیحی بنیادوں پر نمٹائی جائے گی۔’’یہ مقدمہ ہمارے عدالتی نظام سے تقاضا کرتا ہے کہ اسے فوری بنیادوں پر دیکھا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستانی شہری اجمل قصاب ممبئی کی ایک عدالت سے موت کی سزا پانے کے بعد ریاست مہاراشٹر کی ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کر چکے ہیں، جسے مسترد کر دیا گیا تھا اور اب انہوں نے اس سزا پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

 

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM