1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ممبئی کی کچی بستی سے نیویارک بیلے ڈانس اسکول تک

ممبئی کی ایک کچی بستی میں ایک ویلڈر کے بیٹے امیرالدین شاہ کا خواب تھا کہ وہ نیویارک کے بیلے ڈانس اسکول میں رقص کی تعلیم حاصل کرے۔ انتہائی غریب گھرانے کے اس بچے کا خواب پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

کسی کچی بستی کے بچے نے وہ خواب دیکھا، جو شاید بھارت میں سماجی تفریق زدہ معاشرے میں کوئی بچہ دیکھنے کی ہمت آسانی سے نہ کر سکے۔ اس بچے کا خواب تھا کہ وہ نیویارک کے بیلے ڈانس اسکول میں رقص کی تربیت حاصل کرے۔

اگلے چند ماہ میں 15 سالہ امیرالدین شاہ اپنے اس خواب کی تعبیر کے قریب پہنچ جائے گا اور اگلے چار برس تک امریکا کے اس انتہائی معتبر بیلے تھیٹر کے جیکلین کینیڈی اوناسِس اسکول میں تربیت حاصل کرے گا۔

حالاں کہ چھ برس کی عمر میں ہی شاہ موسیقی کے ساتھ بدن کو حرکت دینا جانتا تھا، مگر شاہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا، ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں بیلت ڈانسر بن جاؤں گا۔‘‘

شاہ نے بیلے ڈانس کی تربیت کا آغاز تین برس قبل بھارت میں ڈانس ورکس اکیڈمی میں کیا اور وہاں اسرائیکی امریکی تربیت کار یہودا ماور نے اسے مزید تربیت کے لیے نیویارک بیلے اسکول جانے کی پیش کش کی، کیوں کہ بھارت میں اس ڈانس کی اعلیٰ تعلیم کے مراکز موجود نہیں ہیں۔

ڈانس ورکس اکیڈمی میں ماور نے شاہ کو رقص کرتے دیکھا، تو اس کی صلاحیتوں اور انہیں مزید نکھارا کر امیرالدین شاہ کو ایک بہترین رقاص کے روپ میں دیکھنے کا خیال پیدا ہوا۔  شاہ کا کہنا ہے، ’’مجھے بیلے ڈانس کا ذرا بھی علم نہیں تھا۔‘‘

Bildergalerie Wiener Opernball New York (picture-alliance/dpa/EPA/J. Lane)

ممبئی کی کچی بستی کا یہ لڑکا اب نیویارک بیلی ڈانس اسکول پہنچے گا

امیرالدین شاہ کو جب کبھی موقع ملتا،  وہ فری اسٹائل ڈانس کیا کرتا تھا اور عموماﹰ اسے رقص کے لیے شادیوں کی تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا۔ موسیقی پر شاہ کے پیروں کی حرکت اور نچلے دھڑ کی تھرتھراہٹ کو دیکھ کر رقص کے تربیت کار ماور نے سوچا کہ وہ بیلے ڈانس سیکھے۔

ڈھائی برس کے عرصے میں شاہ نے بیلے ڈانس میں کمال مہارت سیکھ لی، جو ماور کے گمان تک میں نہ تھی اور اسی لیے ماور نے سوچا کہ اسے مزید اعلیٰ تربیت کے لیے نیویارک بیلے ڈانس اسکول بھیج دیا جائے۔

ماور کا کہنا ہے، ’’مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا مل گیا ہے۔ مگر اب اسے مزید تربیت کاروں کے ساتھ بڑے چیلنجوں اور مزید سخت مراحل کا سامنا کرنا چاہیے۔‘‘

ماور ہی نے امیرالدین شاہ کو بیلی ڈانس کے لیے مخصوص جوتے اور لباس خرید کا دیے اور اسے ایک اور 21 سالہ رقاص منیش چوہان کے ساتھ نیویارک بیلے اسکول میں داخلے کے اسکالر شپ لینے میں مدد کی، مگر انہیں وقت پر امریکی ویزا نہ مل سکا۔

شاہ اب امیریکن بیلے تھیٹر میں اپنے چار سالہ تربیتی پروگرام کے اخراجات کے لیے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے، جس پر لوگ عطیات دے سکتے ہیں۔