1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ممبئی: کارگو شپ سے تیل کا اخراج جاری

ممبئی سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوب جانے والے مال بردار بحری جہاز سے تیل کا اخراج جاری ہے تاہم اس کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

default

پاناما سے تعلق رکھنے والا یہ بحری جہاز جمعرات کے روز انڈونیشیا کے راستے بھارتی ریاست گجرات کی طرف سفر کر رہا تھا جب وہ ممبئی کے قریب سمندر برد ہو گیا۔ بھارتی حکومت کے مطابق یہ جہاز 343 ٹن تیل اور کوئلہ لے کر جا رہا تھا۔

حکومت کے مطابق پیر کے روز اس جہاز سے تیل کا اخراج ایک ٹن فی گھنٹہ تھا، جو کہ اتوار کو ڈیڑھ اور دو ٹن فی گھنٹہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بحری جہاز سے تیل کا اخراج کم ہوا ہے۔ بھارتی حکومت تیل کے بہاؤ اور ا س وجہ سے پھیلنے والی سمندری آلودگی کی روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Kultur-Projekt Megacities Freizeit

تیل کے اخراج کی جگہ ساحل کے بہت قریب ہے، ماہر کی رائے

بھارتی ریاست مہاراشٹر کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تیل کے اخراج کی وجہ سے ممبئی کے ساحلی علاقوں کو فوری طور پر آلودگی کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور اس حوالے سے شہریوں کو گھبرانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ جہاز رانی کی بھارتی وزارت کے مطابق جہاز کے ڈوبنے کی جگہ سے تیل 3.7 کلومیٹر دور تک پھیل چکا ہے جبکہ ایک فضائی جائزے کے مطابق سمندر میں اس کارگو شپ کی غرقابی کی جگہ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے تک اس تیل کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

تحفظ ماحول سے متعلقہ امور کی بھارتی ماہر دیبا گوئینکا نے بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’تیل کے اخراج کی جگہ ساحل کے بہت قریب ہے اور ساحلی علاقوں اور تیل کے پھیلاؤ کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔‘‘

سمندر برد ہونے والے جہاز پر عملے کے تیس افراد سوار تھے جن کا تعلق انڈونیشیا، اردن اور رومانیہ سے تھا۔ ان افراد کو بھارتی نیوی اور کوسٹ گارڈز نے کارروائی کر کے بچا لیا تھا تاہم جہاز کو ممبئی سے چالیس کلومیٹر دور ڈوب جانے سے نہ بچایا جا سکا۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM