1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملے، پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ

پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کی زیر صدارت اورفوج کے سربراہ جنرل کیانی کی موجودگی میں دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ممبئی حملوں کی تحقیقات پر اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے تفتیشی عمل کو پیشہ وارانہ معیار کے مطابق قرار دیا گیا۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف آئی اے کی تفتیش کی بنیاد پر اس بھیانک جرم میں شریک ملزمان کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق مقدمہ درج کر کے تفتیش کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ بھارت سے ٹھوس شواہد کی عدم فراہمی کے باعث تحقیقات کو مکمل کرکے مقدمہ قائم کرنا مشکل ہو گا اور یہ کہ تفتیش کے عمل کو مکمل کرنےکے لئے بھارت کو ایف آئی اے کی طرف سے اٹھائے گئے ان سوالات کا جواب بھی دینا ہو گا جو جلد ہی بھارتی حکام کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

حکام کے مطابق تفتیش سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان یا بھارت میں نہیں بلکہ کسی تیسرے ملک میں تیار کی گئی ہے اور یہ کہ ان حملوں میں پاکستانی حکومت یا اس کا کوئی بھی ادارہ ملوث نہیں۔ اس حوالے سے سابق وزیر داخلہ حامد نواز کا کہنا ہے کہ:’’پہلے انہوں نے یہ کوشش کی کہ کہیں کہ یہ غیر ملکی عناصر ہیں تا کہ اگر یہ بات مان لی جاتی ہے تو دوسرے مرحلے میں یہ کہا جائے کہ غیر ملکی عناصر اتنا بڑا کام کیسے کرسکتے ہیں اس کے پیچھے ان کے ادارے آئی ایس آئی ملوث ہے اور ابھی انہوں نے بغیر ثبوت کے الزام دینا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان یا بھارت میں نہیں بلکہ کہیں باہر ہوئی ہے تو بھارت کا ایک بہت بڑا جھوٹ سامنے آئے گا ۔‘‘

حامد نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے واحد زندہ ملزم اجمل قصاب کی حوالگی کا مطالبہ بھی کرنا چاہئے تا کہ پاکستانی ادارے اس سے تفتیش کر کے واقعے میں ملوث مزید افراد تک بھی پہنچ سکیں۔ مبصرین کے خیال میں بھارتی رہنمائوں اور حکام کے حالیہ ہفتے کے بیانات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستانی رپورٹ پر ان کا رد عمل غالباً منفی ہو گا کیونکہ بھارتی قیادت نے اپنی تفتیش پر مبنی جو دستاویز پیش کر رکھی تھی وہ اسے ہی ملزمان کی حوالگی کے لئے کافی قرار دے رہی تھی۔