1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ممبئی حملے: پاکستانی مشیرِ داخلہ کی انٹرپول کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

مشیر داخلہ رحمان ملک نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ممبئی حملوں کی تفتیش آگے بڑھانے کے لئے پاکستان کی طرف سے بھجوائے گئے تیس سوالات کا جلد از جلد جواب دیں ۔

default

انٹرپول کا ’لوگو‘ یا علامت

اتوار کے روز پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انٹرپول کے سیکرٹری جنرل رونالڈ نوبیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں میں گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں صرف تیرہ دن باقی رہ گئے ہیں اور بھارت کو اسی دوران مطلوبہ معلومات فراہم کرنا چاہئیے۔

Pakistan Rehman Malik Advisor

پاکستانی مشیرِ داخلہ رحمان ملک

مشیر داخلہ نے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں مدد فراہم کرنے پر انٹرپول کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے دہشتگردوں سے متعلق مزید معلومات کے حصول کےلئے انٹرپول کے ڈیٹابیس سے استفادہ کرے گا۔ رحمن ملک نے بتایا کہ ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار ملزمان حماد امین صادق ، ذکی الرحمن لکھوی، ضرار شاہ اور ابوالکامہ سے تفتیش جاری ہے تاہم بقول ان کے وہ تفتیش آگے بڑھانے کے لئے اب بھی بھارت سے معلومات کی فراہمی کے منتظر ہیں ۔


’’ ہم بھارتی حکام سے خارجہ امور کے ذریعے ممبئی حملوں کی تفتیش سے متعلق تیس سوالات کے جواب کا مطالبہ کر چکے ہیںجن کی بنیاد پر تفتیش کا عمل آگے بڑھایا جا سکے ۔ جو کہ بدقسمتی سے ابھی تک ہمیں موصول نہیں ہوئے‘‘ رحمان ملک۔

Terror in Mumbai

ممبئی حملوں کی تفتیش آگے بڑھانے کے لئے پاکستان کی طرف سے بھجوائے گئے تیس سوالات کا جلد از جلد جواب دیں، پاکستانی مشیرِ داخلہ کا اصرار

اس موقع پر انٹر پول کے سیکرٹری جنرل رونالڈ نوبیل نے ممبئی حملوں پر پاکستانی تحقیقات کو غیر معمولی، مستعد اور پیشہ وارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ممبئی حملوں سے متعلق بھارت کی طرف سے ابھی تک کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ ان کے بقول ایف آئی کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق ممبئی حملوں کی جزوی منصوبہ بندی پاکستان میں ہی کی گئی البتہ ان کے بقول ایف آئی اے نے چھبیس نومبر کے حملوں میں شامل دہشتگردوں کے نیٹ ورک کی بھارت سمیت یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ کے سات ممالک میں موجودگی کی نشاندہی کی ہے ۔اور بقول انکے انٹرپول ان دہشتگردوں کا پتہ چلانے میں مدد دے گا۔

ادھر تجزیہ نگاروں کے خیال میں بھارت کی طرف سے مطلوبہ معلومات کی فراہمی میں تساہل تفتیش کے عمل کو جمود کا شکار کر سکتا ہے جس سے آئندہ دنوں میںدونوں ممالک میں تنائو مزید بڑھے گا۔