1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملے، ایک سال بیت گیا

ایک برس بیت گیا، گزشتہ سال آج ہی کے دِن، ممبئی میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ مرکزی ریلوے اسٹیشن پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ دہشت گردوں نے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں پر گھنٹوں قبضہ جمائے رکھا۔

default

ان حملوں میں کم ازکم 166افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے فوری طور پر ان حملوں کی ذمے داری پاکستان پر ڈال دی اور اسلام آباد کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر دیے۔ پاکستان نے الزامات رد کئے لیکن یہ ضرور کہا کہ غیرریاستی عناصر حملوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد دستاویزات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔

اب، ممبئی حملوں کا ایک سال مکمل ہونے سے ایک دِن پہلے، پاکستان میں سات ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوا۔ تاہم ملزمان نے جرم قبول نہیں کیا۔ ان میں ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی اور لشکر طیبہ کا ضرار شاہ بھی شامل ہے۔

Krickett sorgt für Entspannung

ممبئیی حملوں کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکراتی سلسلہ منقطع ہوا

بھارت اور امریکہ نے پاکستانی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے مزید کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ عالمی برادری پاکستان پر دباؤ بڑھائے۔

تاہم اس ایک برس میں بھارتی حکام نے اپنے شہروں کو کتنا محفوظ بنایا ہے، اس بارے میں مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس قدر بڑے حملے کے بعد بھی سیکیورٹی کا نظام بہتر نہیں ہوا اور ملک کو غیرمحفوظ ہی قرار دیا جاتا ہے۔ تقریبا پونے دو کروڑ آبادی کے شہر ممبئی میں ایک سال قبل حملوں کا نشانہ بننے والے ہوٹل اوبرائے اور تاج پر آج بھی نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔

ممبئی حملوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ہوئیں، وہاں آج بھی سیکیورٹی انتظامات مناسب نہیں۔ گزشتہ برس کے حملوں کے لئے دہشت گرد ممبئی کی ساحلی پٹی سے شہر میں داخل ہوئے جس کا طویل حصہ آج بھی غیرمحفوظ ہے۔

نئی دہلی میں قائم انسٹی ٹیوٹ برائے کانفلکٹ منیجمنٹ سے وابستہ تجزیہ کار اجے سہانی کہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے بعد حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔

اجے سہانی کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا، اس کی وجہ پاکستان پر دباؤ ہے۔ ممبئی کی پولیس فورس اڑتالیس ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے زمانے کی بندوقوں کے ساتھ ممبئی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا سامنا کیا تھا۔

Flash-Galerie Anschläge Mumbai Indien 2008

یہ حملے ساٹھ گھنٹے تک جاری رہے

ممبئی پولیس کے سربراہ ڈی سواناندن کہتے ہیں کہ دوسرا حملہ یا دھماکہ نہیں ہوگا، یہ تو کہا نہیں جاسکتا، لیکن ایسا کچھ ہوا تو اس کا رد عمل بہتر اور تیز تر ہوگا۔

بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بھی یہی کہنا ہے کہ ملک پر حملوں کا خطرہ نہ تو کم ہوا ہے اور نہ ہی بڑھا ہے، لیکن ایسے اقدامات کئے گئے ہیں، جن سے اس نوعیت کے حالات کا زیادہ بہتر انداز میں سامنا کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ : ندیم گل

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM