1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملے: آئی ایس آئی کے سربراہ بھارت جائیں گے

پاکستانی صدر اور بھارتی وزیراعظم کے مابین ٹیلی فون رابطے میں، صدر پاکستان نے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں تعاون کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ۔

default

پاکستان دنشت گردی کی جنگ میں بھارت کے ساتھ ہے۔ پاکستانی حکام کی ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کو بھارت بھیجنے کی درخواست کی تا کہ وہ ممبئی حملوں کے خلاف ثبوت براہ راست بھارتی حکام کو دیں۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے بھارتی وزیراعظم کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستانی خفیہ ادارے کے سربراہ کہ بھارت بھیجنے اور بھارتی حکام کو ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں موجود ہیں نے اپنے بھارتی ہم منصب پرناب مکھرجی سے ممبئی میں جاری دھشت گردی کے واقعات پر ’سیاسی بیان بازی ‘ سے پرہیز کرنے کی اپیل کی ہے۔

اوبرائے آپریشن مکمل: بھارتی سیکیوریٹی فورسز کے مطابق اوبرائے ہوٹل آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور چوبیس لاشیں ملی ہیں۔دوسری طرف تاج ہوٹل میں آپریشن جاری ہے جہاں سیکیوریٹی اہلکاروں کو مزید پچاس لاشیں ملی۔ یہودی مرکز میں مغوی بنائے گئے افراد میں سے پانچ کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے مسلح افراد کی طرف سے جاری فائرنگ کے مختلف واقعات میں اب تک 155افراد ہلاک جبکہ تین سو دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں چودہ پولیس اہلکار اور چھہ غیر ملکی باشندے شامل بتائے جاتے ہیں۔ ’دکن مجا ہدین‘ نامی ایک تنظیم نے بدھ کی رات کو شروع ہونے والے ان دھشت گردی کے واقعات کی ذمو داری کی ہے۔ تا ہم بھارتی وزیر اعظم نے اپنے قوم سے خطاب کے دوران’بیرونی طاقتوں ‘ کو مورد الزام ٹھہرایا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic