1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا دینے کے لئے سنجیدہ ہیں، پاکستانی وزیراعظم

غیر وابستہ ممالک کے اجلاس میں شرکت کے بعد شرم الشیخ سے وطن واپسی پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کو سراہا۔

default

مصرمیں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات سے پہلے لی گئی ایک تصویر

ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی ہے جو صرف مذاکرات ہی کے ذریعے دور ہو سکتی ہے: 'دونوں ممالک آپس میں تعاون کی فضاءکو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے حقیقت میں اس موضوع پر مشترکہ مذاکرات میں تفصیل سے بحث کی ہے اور دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صرف مذاکرات اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔'

Flash-Galerie Anschläge Mumbai Indien 2008

تاج محل ہوٹل بھی ممبئی حملوں کے اہداف میں شامل تھا

بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ من موہن سنگھ کو بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں بھارتی مداخلت کے ثبوت فراہم کر دیے گئے ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ مستقبل میں دہشتگردی کے واقعات سے متعلق قابل اعتماد معلومات کے تبادلے پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستانی سرزمین دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور یہ کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا:'ہم اس بات کی ایک بار پھر یقین دہانی کراتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داران کے خلاف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ بھارت کی طرف سے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں دہشتگردی کے واقعات سے متعلق اہم اور قابل اعتماد معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا ۔'

دوسری جانب ملک کے سیاسی حلقے وزیراعظم گیلانی کے دورہ شرم الشیخ کو پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ البتہ مبصرین کے بقول دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے میں درپردہ امریکی ہاتھ کارفرما ہے جس کے جنوبی ایشیاءکے خطے سے گہرے اور طویل المیعاد مفادات وابستہ ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: ندیم گل