1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملوں کا پاکستانی ملزم زمبابوے میں گرفتار

پاکستان کو ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں مطلوب ایک مبینہ دہشت گرد کو زمبابوے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ ملزم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ زمبابوے سے جنوبی افریقہ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔

default

زمبابوے کی پولیس اور سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستانی شہری عمران محمد فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے ملک جنوبی افریقہ میں داخل ہونے سے قبل سرحد پر گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق 33 سالہ عمران محمد کے ہمراہ ایک اور پاکستانی شہری کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق عمران محمد ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں پاکستان کو مطلوب افراد میں سے ایک ہے۔

زمبابوے کے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اخبار ہیرالڈ کے مطابق : ’’واضح ہوتا ہے کہ عمران محمد بائٹ بریگیڈ سرحدی پوسٹ سے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے، جس پر پاکستان میں الزام عائد ہے کہ یہ سن 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھا۔‘‘

Mohammed Ajmal Kasab

پاکستانی شہری اجمل قصاب کو ان حملوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا سنائی جا چکی ہے

پولیس حکام کے مطابق ان افراد کو رواں ماہ کی 20 تاریخ کو حراست میں لیا گیا تھا اور بین الاقوامی پولیس ان افراد کی شناخت کے حوالے سے تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر کینیا کے جعلی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی شناخت کے حوالے سے دیگر معلومات کے لئے زمبابوے کی حکومت نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

اخبار کے مطابق گرفتار ہونے والا دوسرا شخص 39 سالہ چوہدری پرویز احمد ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ افراد سعودی عرب سے اپنے سفر کا آغاز کر کے سب سے پہلے تنزانیہ پہنچے تھے۔ اس کے بعد یہ سڑک کے راستے زمبابوے سے ہوتے ہوئے جنوبی افریقہ میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔

فی الحال یہ بات سامنے نہیں آئی ہےکہ ان افراد کے جنوبی افریقہ میں داخلے کی کوشش کا مقصد کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ ان افراد کے اس سفر کے در پردہ مقاصد معلوم کئے جا سکیں۔

عالمی کپ فٹ بال کے موقع پر زمبابوے اور جنوبی افریقہ نے اپنی باہمی سرحد پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر رکھی ہے۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک کی اس سرحد پر سیکیورٹی ورلڈ کپ مقابلوں کے اختتام تک ہائی الرٹ ہی رہے گی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM