1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ممبئی حملوں جیسا دوسرا واقعہ برداشت نہیں کریں گے، راجو

بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر واضح کیا ہے کہ اگر ممبئی حملوں جیسا کوئی دوسرا واقعہ رونما ہوا تو نئی دہلی حکومت عوامی دباؤ کے تحت جوابی کارروائی پر مجبور ہوجائے گی۔

default

بھارتی وزیر مملکت برائے دفاع ایم پالم راجو کا کہنا ہے کہ نومبر 2008ء میں جب پاکستان سے عسکریت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی حکومت پر جوابی کارروائی کے لیے شدید دباؤ تھا۔ سنگاپور منعقدہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا، ’’ اب اگر اشتعال انگیزی ہوئی تو عوام کے سامنے تحمل اور برداشت کو دوبارہ درست ثابت کرنا مشکل ہو گا، مجھے امید ہے کہ ایسا عمل دوبارہ نہیں دُہرایا جائے گا، ہم پاکستان کے ساتھ تعمیری مذاکرات کریں گے تاکہ ان دہشت گرد عناصر کو محدود کیا جاسکے، جو نہ صرف بھارت کے لیے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے اندر بھی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔‘‘

جنوبی ایشیاء میں جوہری صلاحیت کے حامل ان دو پڑوسی ممالک کے تعلقات ممبئی حملوں کے بعد انتہا کی حد تک خراب ہوگئے تھے۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی حکومت پر ممبئی حملوں کی براہ راست ذمہ داری عائد کی جارہی تھی جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ یہ غیر حکومتی عناصر کی کارروائی ہے۔ نئی دہلی کے مطابق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ نے ممبئی آپریشن کیا تھا جسے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سر پرستی حاصل تھی۔

Indien Cricket WM 2011 Halbfinale Indien Pakistan

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ہمراہ عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران

دوسری جانب پاکستان میں متعدد افراد کو ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کر کے ان پر مقدمے چلائے گئے ہیں تاہم لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید سمیت بعض دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے بھارت سے ٹھوس ثبوت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں میں ملوث پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کے اعتراف کے بعد مستقبل میں پاکستان کے خلاف تحمل کا مظاہرہ کرنا مشکل ہے۔ امریکی شہر شکاگو کی عدالت میں ہیڈلی نے تسلیم کیا ہے کہ ممبئی حملوں کے لیے انہیں آئی ایس آئی اور لشکر طیبہ سے احکامات ملے تھے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں سال مذاکراتی سلسلے کا دوبارہ آغاز ہوچکا ہے تاہم دونوں طرف اعتماد کا فقدان اب بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات