1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ممبئی انٹرٹینمنٹ کا مرکز ضرور مگر پارٹی کرنا آسان نہیں

بھارتی شہر ممبئی کو انٹرٹینمنٹ کا مرکز سمجھا جاتا ہے مگر حکومت کی جانب سے ’نائٹ لائف‘ کے شوقین افراد پر پابندیوں نے ممبئی میں پارٹی کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

default

ممبئی بھارتی شو بزنس اور انٹرٹینمنٹ کا دارالحکومت بھی کہلاتا ہے۔ ممبئی بالی وڈ کی آماج گاہ بھی ہے۔ ممبئی میں رہنے والے موج مستی اور پارٹیز کے جنون کے حوالے سے مشہور ہیں۔ تاہم یہاں کی ’نائٹ لائف‘ اتنی آسان بھی نہیں رہی ہے جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے نت نئے قواعد و ضوابط کی وجہ سے صورت حال گھمبیر ہو گئی ہے۔

ابھی پچھلے ہفتے بھارتی پولیس نے اکتیس افراد پر بارہ سو روپے فی کس کا جرمانہ عائد کردیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ افراد ایک نائٹ کلب میں ’غیر اخلاقی‘ رقص کر رہے تھے۔ یہی نہیں، حکومت کی جانب سے شراب خریدنے کے اہل افراد کی عمر اٹھارہ سے بڑھا کر اب اکیس برس کر دی گئی ہے۔ یہ شراب پر عائد حکومتی ٹیکسوں کے علاوہ ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ممبئی کے انٹرٹینمنٹ کیپیٹل ہونے کی شہرت کو کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔

Flash-Galerie Indien Sport Cricket Shah Rukh Khan

بالی وڈ سپراسٹار شاہ رخ خان ممبئی میں رہتے ہیں

شراب خریدنے کے اہل افراد کی عمر کو اکیس سال کرنے پر بالی وڈ سے بھی منفی رد عمل سامنے آیا تھا۔ بالی وڈ کے سپر اسٹار امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں اس حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا تھا ک وہ خود تو شراب نوشی نہیں کرتے مگر حکومت کا یہ فیصلہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

'پرپل پنک پرنس‘ نامی ایک پینتالیس سالہ شخص نے اپنے آن لائن پیغام میں کہا کہ ممبئی میں نائٹ لائف اب اتنی عمدہ نہیں رہی۔ ’’تمام ریستوراں رات ساڑھے گیارہ بجے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس کے بعد صرف انتہائی مہنگے، فائیو اسٹار ہوٹل ہی کھلے ہوتے ہیں۔‘‘ پرپل پنک پرنس کا کہنا ہے کہ حکومتی قواعد و ضوابط اس بات کا خیال نہیں کر رہے کہ ہزاروں بھارتی نوجوان بین الاقوامی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں جن کے اوقات کار صبح سے رات تک کا احاطہ کرتے ہیں۔

بھارتی کارپوریٹ ٹرینر کینیتھ لوئس کا اس حوالے سے کہنا ہے: ’’پولیس کے ریڈز نے ان لوگوں پر بہت برا اثر ڈالا ہے جو کہ لبرل ہیں اور جو اپنی آزادی کا بھرپور استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ ممبئی میں اس نوعیت کے قواعد و ضوابط کا ہونا ضروری ہے تاکہ نظم و ضبط قائم کیا جا سکے اور ممکنہ جرائم کی بھی روک تھام ہو۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM