1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مل کر ہی مالیاتی بحران سے نکل سکتے ہیں: بش

دنیا کے سات امیر ترین صنعتی ممالک کی تنظیم جی سیون نے عالمی مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے پانچ نکاتی ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے۔

default

)

صنعتی طور پر ترقّی یافتہ ممالک کی تنظیم جی سیون کے وزرائے خزانہ نے مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن منعقدہ اجلاس کے بعد جی سیون ممالک کے وزرائےخزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان نے کہا کہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے تمام تر زرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔ جی سیون ممالک میں امریکہ، جاپان، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں۔امریکہ کے وزیر مالیات ہنری پاؤلسن کہتے ہیں :’’ ہم نے مالیاتی بحران سے نکلنے کے لیے ایک جارحانہ ایکشن پلان تیارکیا ہے۔ ہم ایک اجتماعی پالیسی کے ذریعے مالیاتی منڈیوں کو سرمایہ فراہم کریں گے، مالیاتی اداروں کو مستحکم بنائیں گے اور حصص بازاروں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دوبارہ بحال کریں گے۔‘‘

امریکی وزیر مالیات نے بیل آوٹ پلان کے تحت مالیاتی اداروں کے حصص خریدنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت جاپان اور چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے کیونکہ ان کے پاس بڑی تعداد میں امریکن ٹریثری بانڈز ہیں۔ جو کہ اس بحران سے نکلنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر جارج بش نے جی سیون کے اعلامیے کے بعد کہا کہ صنعتی ممالک کی تنظیم امریکہ کو مالیاتی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔’’ہم سب ہی اس بحران میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہم مل کر ہی اس سے نکلیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا کے بڑے صنعتی ممالک اس بحران سے نکلنے میں ہماری مدد کریں گے۔‘‘

جہاں جی سیون کے مشترکہ اعلامیے میں اجتماعی کوششوں اور مشترکہ اقدامات کرنے کاعزم کیا گیا ہے وہیں یہ بات بھی کی گئی کہ تمام ممالک اپنے طور پر اس مالیاتی بحران سے نکلنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ جرمن وزیر مالیات شٹائن برک کہتے ہیں:’’اس اجلاس میں مشترکہ اقدامات اٹھانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہر ملک انفرادی طور پر مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں ترک کر دے۔‘‘

دوسری جانب واشنگٹن ہی میں جی ٹوئنٹی ممالک کے وزارئے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان بھی مالیاتی بحران کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس گروپ میں امیر اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک شامل ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ جی ٹوؤنٹی ممالک جی سیون ممالک کے پانچ نکاتی ایکشن پلان کی توثیق کریں گے۔

DW.COM