1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ملیریا کے باعث انسانی ہلاکتوں میں واضح کمی

عالمی ادارہء صحت کے تعاون سے جاری کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ملیریا کے نتیجے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں میں 38 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

default

اس رپورٹ کے مطابق، جو پیر کو جاری کی گئی، مطلوبہ فنڈز کی دستیابی کی وجہ سے ملیریا کے خلاف عالمی جنگ میں کامیابی ہو رہی ہے۔ اس نئی پیشرفت سے اب اس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ 2015ء تک مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی اس بیماری سے ہلاکتوں کی تعداد اتنی کم ہو جائے گی کہ وہ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران مجموعی طور پر 43 ممالک میں ملیریا سے ہونے والی ہلاکتوں میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان میں سے گیارہ ممالک کا تعلق افریقہ سے ہے، جہاں ملیریا کے مرض کی ہلاکت خیزی میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ دہائی کو ملیریا کے خلاف عالمی جنگ کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس بیماری کے خلاف سرگرم رول بیک ملیریا RBM نامی پارٹنر شپ نے اقوام متحدہ کی تعاون سے اپنی جو رپورٹ جاری کی ہے، اس کے اعداد وشمار کے مطابق اگر ملیریا کے خلاف عالمی جنگ کے لیے فنڈز دستیاب رہے تو 2015ء تک اس بیماری کے نتیجے میں ہونی والی ہلاکتوں پر قابو پا لیا جائے گا تاہم کئی ماہرین نے اس طرح کے کسی بھی دعوے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا سے اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مزید پچاس برس درکار ہیں۔

Flash-Galerie UN Millennium Ziele 6 Krankheiten bekämpfen

افریقہ میں ہر 45 سکینڈ میں ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے

RBM کا ہدف ہے کہ 2000ء کے اعداد وشمار کے مقابلے میں 2015ء تک ملیریا کے واقعات پر 75 فیصد کی شرح تک قابو پا لیا جائے اور مزید دس ممالک میں ملیریا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2009ء تک دنیا بھر میں ملیریا سے ہونے والی اموات 781 ہزار رہی تھیں، جو 2000ء تک ایک ملین بنتی تھیں۔ اس حوصلہ افزاء رپورٹ کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ملیریا کے قریب 225 ملین واقعات سامنے آتے ہیں جبکہ ابھی بھی 106ممالک ایسے ہیں، جہاں یہ بیماری ایک وباء کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ افریقہ میں ہر 45 سکینڈ میں ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ملیریا کے خلاف مؤثر کارروائی کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی امدادی اداروں کا کردار ہے، جنہوں نے اس بیماری کے خاتمے کے لیے مالی امداد میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ 2003ء کے مقابلے میں اب تک اس فنڈنگ میں پندرہ گنا اضافہ ہوا ہے۔

طبی ماہرین نے اس رپورٹ کو ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیتے ہوئے اس بارے میں خبردار بھی کیا ہے کہ ملیریا کے مکمل خاتمے کی کوششوں کو نہ صرف جاری رکھنا ہوگا بلکہ ان میں تیزی لانا بھی انتہائی اہم ہو گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس