1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملک کئی سال پیچھے چلا گیا: وزیر اعظم گیلانی

صوبہء پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تباہی کے بعد سیلابی ریلا اب سندھ میں داخل ہوگیا ہے، جس کےبعد گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سیلاب کے باعث جیکب آباد، شکار پور اور اوباڑو میں صورتحال خطرناک ہو گئی ہے۔

default

گڈو کے مقام پر پانی کا اخراج گیارہ لاکھ کیوسک سے زائد ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آج سکھر بیراج کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور دوست ممالک متاثرین کی بحالی کے لیے مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جس کی تلافی ناممکن ہے۔

Pakistan Flut August 2010

ایک خاتون غم سے نڈھال



وزیر اعظم نے بتایا کہ سندھ میں سیلاب سے انیس اضلاع متاثر ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آنے والے سیلاب کے باعث ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے اعلانات اپنی جگہ مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ سول انتظامیہ سیلاب کے بعد کی صورتحال اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم متاثرین نے فوج کے کردار کو سراہا ہے۔

دادو مورو پل سے چھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے۔ نوشہرہ فیروز، نواب شاہ، جام شورو اور دادو میں تین سو زائد دیہات اور لاکھوں زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی ہے۔

NO FLASH Pakistan Überschwemmung Flut

اس سیلاب سے ملک کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں



ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے دو ہزار پانچ میں آنے والے سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔اب بھی ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں اور کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے بعد ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہء آب پاشی نے بند اور دریائی پشتوں کی حفاظت شروع کر دی ہے۔

دریائے سندھ کے کناروں پر آباد پانچ لاکھ کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے مگر اب بھی بعض مقامات پر لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس