ملک ریاض پراپرٹی کے بعد اب میڈیا انڈسٹری میں | معاشرہ | DW | 29.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملک ریاض پراپرٹی کے بعد اب میڈیا انڈسٹری میں

ملک ریاض حسین جو پاکستان کی فوج اور سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات پر فخر کرتے ہیں، اب پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں محض اس لیے داخل ہونا چاہتے ہیں تاکہ ان لوگوں سے محفوظ ہوسکیں جو ان پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

پاکستانی ریئل اسٹیٹ کی سب سے بڑی کاروباری شخصیت 66 سالہ ملک ریاض حسین نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو ایک انٹرویو میں دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں بہت جلد میڈیا انڈسٹری میں آرہا ہوں، میں بہت سے نئے ٹی وی چینلز کا آغاز کروں گا، بلیک میلرز سے بچنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔‘‘

ملک ریاض کا شمار پاکستان کے امیر ترین اور انتہائی طاقتور کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے ارب پتی ہیں جنہیں مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات کا سامنا ہے لیکن وہ پاکستان کی سب سے اعلیٰ رہائشی اسکیم اور اپنی خیراتی سرگرمیوں کے باعث بھی جانے جاتے ہیں۔

اپنے اوپر مالی بد عنوانیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے ملک ریاض کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں چھٹے نمبر پر سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔ وہ کئی مرتبہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات، ججوں اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بھی رشوت دی ہے۔ ملک ریاض نے روئٹرز کو بتایا،’’ اگر میں یہ بتا دوں کہ میں نے سب سے بڑی رشوت کتنے پیسوں کی دی تھی تو آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے گا۔‘‘

ملک ریاض نے یہ انٹرویو اسلام آباد کے نواح میں صاف اور کشادہ سٹرکوں اور خوبصورت گھروں والے بحریہ ٹاؤن میں دیا۔ ملک ریاض کی کل پراپرٹی 40 ہزار ایکٹر پر مبنی ہے اور ان کے اس کاروبار میں 60 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔

پاکستنا کا قومی احتساب بیورو ملک ریاض پر غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ کرنے اور سیاست دانوں کو استعمال کرتے ہوئے کم قیمت پر زمینیں خریدنے کے الزمات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ملک ریاض ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لیے ٹی وی چینل کا فورم چاہیے، میں میڈیا میں نہیں جانا چاہتا تھا لیکن میرے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کے زیادہ تر نیوز چینلز اردو زبان میں ہیں جس سے میڈیا گروپ پاکستان کی 190 ملین افراد پر مشتمل آبادی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

کبھی اپنی بیٹی کے علاج کے لیے اپنے گھر کا سامان فروخت کرنے والے ملک ریاض نے 30 برس قبل اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا تھا۔ سن 1979 میں محض 1500 روپے سے انہوں نے پاکستان کی فوج کے انجئینرنگ کور کے ساتھ بطور کنٹریکٹر کے کام شروع کیا۔ اس وقت ملک ریاض کے پاکستان کی فوج کے ساتھ ہزاروں ایکڑ پر محیط پراپرٹی کے پانچ مشترکہ منصوبے ہیں۔

پاکستان کے چند امراء نے حال ہی میں ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ اب ملک ریاض کے تعلقات پاکستان کی فوج اور خصوصاﹰ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے پہلے جیسے نہیں رہے۔ اس بارے میں ملک ریاض کہتے ہیں، ’’اگر میرے جنرل راحیل شریف سے اچھے تعلقات نہ ہوتے تو پاکستان کی فوج کے ساتھ ہمارے مشترکہ منصوبے بند نہ ہوچکے ہوتے؟‘‘

DW.COM