1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ملکی سلامتی کی بحث کو مہاجرين سے نہ جوڑا جائے، شُلس

جرمنی ميں سوشل ڈيموکريٹس کی سياسی جماعت ايس پی ڈی نے آئندہ ماہ ہونے والے اليکشن کے تناظر ميں مہاجرين کے انضمام کے ليے نئی حکمت عملی کا اعلان کيا ہے۔ پارٹی کے سربراہ نے انگيلا ميرکل کی پاليسيوں کو تنقيد کا نشانہ بنايا۔

ايسی پی ڈی کے سربراہ مارٹن شلس نے خبردار کيا ہے کہ مہاجرين کے انضمام اور ملکی سلامتی دو مختلف موضوعات ہيں اور انہيں يکساں طور پر ديکھنا بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ دارالحکومت برلن کے جرمن انسٹيٹيوٹ برائے اقتصادی تحقيق ميں ليکچر ديتے وقت شلس نے کہا، ’’ہميں پوچھنا چاہيے کہ جب يہيں پيدا ہونے والے نوجوان ترک صدر رجب طيب ايردوآن جيسے رہنما کے حق ميں نعرے لگاتے ہيں يا پھر ’اسلامک اسٹيٹ‘ کی طرز کی انتہا پسندانہ سوچ کی طرف مائل ہوتے ہيں، تو دراصل اس کی وجہ کيا ہے۔‘‘     

ستمبر ميں ہونے والے عام انتخابات ميں مارٹن شلس موجودہ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کے حريف ہيں۔ انہوں نے ميرکل کی جماعت سی ڈی يو کو سخت تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ يہ پارٹی انضمام کے موضوع پر ہونے والی بحث کو سلامتی پاليسی کے ساتھ ملا ديتی ہے، جو ايک بہت بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ شلس نے بالخصوص وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر پر تنقيد کی، جو ان کے بقول عموماً ايسی پوزيشن اختيار کرتے ہيں۔

ايس پی ڈی کے سربراہ نے کہا کہ اليکشن جيتنے اور حکومت ميں آنے کی ممکنہ صورت ميں وہ مہاجرين کے انضمام سے متعلق امور کی نگرانی وزارت داخلہ سے ہٹا کر وزارت برائے ليبر اور سماجی امور کے حوالے کر ديں گے۔

ویڈیو دیکھیے 03:10

مہاجرین اور جرمن باشندوں کو قریب لانے کا نیا طریقہ

Audios and videos on the topic