1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ملکی سرحدوں کی نگرانی، ہنگری کا نیا اقدام

ہنگری کی حکومت غیر قانونی مہاجرین کی آمد کو روکنے کی خاطر مختلف اقدامات کر چکی ہے۔ بارڈرز پر باڑیں، سرحدی گارڈز میں اضافہ اور نگرانی کے نت نئے طریقے۔ اب اس مقصد کی خاطر بوڈاپسٹ حکومت نے ایک نیا منصوبہ تجویز کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے اپی نے ہنگری کی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملکی سرحدوں پر تعینات سکیورٹی گارڈز کو بہتر طور پر مسلح کرنے کی خاطر تین سو چالیس ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

کیا یورپ میں مہاجرت کا بحران کبھی ختم ہو گا؟

ہنگری میں قیدیوں سے مہاجرین کے خلاف نئی باڑ تعمیر کروا لی گئی

بلقان کی ریاستیں مہاجرت کے مسئلے سے نمٹنے میں شریکِ کار بنیں

حکمران فیڈیس پارٹی کے رہنما لایوش کوزسا نے کہا ہے کہ حکومت میں اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ سرحدوں پر نگرانی کی خاطر تعینات گارڈز کے لیے جدید آلات اور بنیادی سپلائز کی مد میں سو بلین ہنگیریئن فورنٹ خرچ کیے جائیں گے۔

مہاجرین کے بحران میں ہنگری کی حکومت نے سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم وکٹور اوربان کی کوشش ہے کہ ملک میں مہاجرین کا داخلہ روک دیا جائے، جس کی خاطر ان کی حکومت ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ متصل قومی سرحدوں کو بند کر چکی ہے۔

تاہم پھر بھی بالخصوص سربیا میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح ہنگری میں داخل ہو جائیں۔ یہ مہاجرین بعد ازاں ہنگری کے راستے شمالی اور مغربی یورپی ممالک جانے کے خواہاں ہیں۔

ہنگری کی حکومت نے ایسے مہاجرین کے ملک میں داخلے کو روکنے کی خاطر جہاں متعدد اقدامات کیے ہیں، وہیں نئے سرحدی محافظ بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔ حال ہی میں بوڈاپسٹ حکومت نے تین ہزار سکیورٹی گارڈز کو قومی سرحدوں کی نگرانی کے لیے فعال بنایا تھا۔ اب حکومت ان گارڈز کو بہتر آلات اور سہولیات فراہم کرنے کی خاطر ایک خطیر رقم خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

گزشتہ برس ہنگری کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد چار لاکھ رہی تھی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں اوربان نے سربیا اور کروشیا سے ملحق ہنگری کی قومی سرحدوں کو بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

اب بھی مہاجرین ان سرحدی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جنہیں ہنگری کے بارڈز گارڈز پکڑ کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ کوزسا کے بقول حالیہ دنوں میں ہنگری آنے والے مہاجرین کے گروہ کو آئندہ موسم بہار میں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات