1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملکی ترقی میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کا کردار

محمد مجنوں میاں نے شہباز پور میں کچھ زمین خریدی ہے اور اپنےگھر کی ازسرنو تعمیر کی ہے۔ گھر کے اندرکی نمایاں چیزوں میں سی ڈی پلیئر اورٹیلی ویژن ہیں۔ یہ سب ان کی اہلیہ اور بیٹے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

default

مجنوں میاں کے بیٹے اور اہلیہ نے مالدیپ میں چھ سال تک کام کیا ہے اور ان کی جانب سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر کی بدولت ان کا معیار زندگی بلند ہوا ہے۔ مجنوں میاں کے بیٹے اور اہلیہ ماہانہ چار سو ڈالر بھیجتے تھے، وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں ایک تہائی آبادی کی روزانہ آمدن ڈیڑھ ڈالر سے بھی کم ہے۔

شہباز پور جیسے گاؤں میں ماہانہ چار سو ڈالرکا حصول بڑی خوش قسمتی تصور کیا جاتا ہے۔ اب انہی اقدامات کی بدولت بنگلہ دیش کی 30 فیصد سے زائد غربت کی چکی میں پسنے والی آبادی آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہے۔

Bangladesch Überschwemmungen

گزشتہ پانچ برسوں میں لگ بھگ 13ملین افراد کو غربت سےنکالا گیا ہے

محمد مجنوں میاں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیچھے گاؤں میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ اور بیٹے کی کمائی کو صیح معنوں میں استعمال کیا ہے اور جلد ہی ان کا ارادہ ریفریجیریٹرخریدنے کا ہے۔ شہباز پورگاؤں، دارالحکومت ڈھاکہ سے 150کلومیٹر دور ہے اور اس علاقے میں اب تین پرائمری اسکول، چھ مساجد، ایک کمیونٹی کلینک اور کئی گھروں سے منسلک سڑک بھی ہے۔

ایک دہائی پہلے کی نسبت یہاں کے زیادہ تر رہائشیوں کا معیار زندگی اب بہتر ہے۔ لوگ اپنے خاندان کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے زیادہ تر چاول اور سبزیاں اگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی تقریبات اور روایتی تہواروں میں شرکت اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس بچت بھی ہوتی ہے۔

Kinder in Bangladesch FLASH-Galerie

بنگلہ دیش کے دیہی علاقوں میں لوگ غربت میں کمی کے باعث اب اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں

مقامی بینک میں ملازم عبدالواحد بیرون ممالک کام کرنے والے افراد کی جانب سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر کو اس خوشحالی کا راز قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس گاؤں کے ایک ہزار سے زائد افراد بیرون ممالک میں روزگار سے وابسطہ ہیں۔ شہباز پور کی یونین کونسل کے چیئرمین ناصرالدین سرکار کا کہنا ہے کہ لوگ اب اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں، جو آج سے دس سال پہلے ممکن نہیں تھا اس کے علاوہ گاؤں میں خوشحالی کے باعث کوئی بھکاری نظر نہیں آئے گا۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق 70 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی افراد دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مرکزی بینک اور شماریات بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق بیرون ملک مقیم یہ افراد سالانہ 11بلین ڈالرز ترسیلات زر کی صورت میں بھیجتے ہیں، جو کہ ملک کی اقتصادی ترقی کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس آمدنی کے علاوہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایکسپورٹ سے بھی 18 بلین ڈالرزحاصل ہو رہے ہیں، جس کی بدولت گزشتہ پانچ برسوں میں لگ بھگ 13ملین افراد کو غربت سےنکالا گیا ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM