1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملا یعقوب اور ملا عبدالمنان ’رہبری شوریٰ‘ میں شامل

افغان طالبان نے اپنے سابق رہنما ملا عمر کے بیٹے کو ملٹری کمیشن کا چیف جبکہ اس کے چچا اور اسے اپنی ’رہبری شوریٰ‘ کا رکن بھی بنا دیا ہے۔ اس پیشرفت کو طالبان میں تقسیم کو ختم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے افغان طالبان کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملا عمر کے بڑے بیٹے ملا محمد یعقوب اور بھائی ملا عبدالمنان کو فیصلہ سازی کی اہم کمیٹی ’رہبری شوریٰ‘ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ قاری یوسف احمدی کے مطابق یعقوب کو طالبان کے ملٹری کمیشن کا سربراہ بھی بنا دیا گیا ہے۔

ناقدین کے مطابق ملا عمر کے دو انتہائی قریبی ساتھیوں کو اس باغی تحریک میں اہم مقامات دینے کا مقصد طالبان کے موجودہ رہنما ملا اختر منصور کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے، کیونکہ طالبان کے مختلف دھڑوں میں قیادت کے معاملے پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

ملا عمر کی ہلاکت کی خبر عام ہونے کے بعد ملا اختر منصور کو افغان طالبان کا سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ملا عمر کے گھر والوں کے علاوہ کئی دیگر دھڑوں نے بھی اس پر اعتراضات کیے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ملا محمد یعقوب طالبان جنگجوؤں میں ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یعقوب کو طالبان باغی تحریک کے ملٹری کمیشن کا سربراہ بنا دیا گیا ہے اور اب وہ افغانستان کے پندرہ صوبوں میں جنگجو کارروائیوں کی سرپرستی کرے گا۔

احمدی کے مطابق ملا یعقوب اور عبدالمنان نے اپنی نئی ذمہ داریوں کو نہ صرف قبول کر لیا ہے بلکہ پیر سے انہوں نے اپنے عہدے سنبھال بھی لیے ہیں۔

طالبان کے ایک اہم رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ملا منصور نے ایک طویل عرصے سے یعقوب اور عبدالمنان کو شوری میں اہم مقام دینے کی دعوت دے رکھی تھی۔ تاہم ان کی باقاعدہ طور پر تقرری پیر کے دن عمل میں آئی ہے۔ اس رہنما کے بقول اس پیشرفت سے طالبان میں اتحاد پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

Mullah Akhtar Mohammad Mansour

افغان طالبان کے کچھ دھڑوں کا یہ الزام بھی ہے کہ ملا منصور پاکستان کی کٹھ پتلی ہے

ملا عمر کی موت کی خبر عام ہونے کے بعد اس کے گھرانے نے قیادت سنبھالنے میں دلچپسی ظاہر کی تھی۔ پہلے انہوں نے اپنے نئے سربراہ کے طور پر ملا یعقوب کی حمایت کی تھی لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے بعد ملا عمر کے پرانے اور قریبی ساتھی ملا منصور کو اپنا رہنما قبول کر لیا تھا۔

افغان طالبان کے کچھ دھڑوں کا یہ الزام بھی ہے کہ ملا منصور پاکستان کی کٹھ پتلی ہے۔ یہ دھڑے اب بھی طالبان کی مرکزی رہبری شوریٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ایسی خبریں عام ہوئی تھیں کہ طالبان کے متحارب دھڑوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں ملا منصور شدید زخمی ہو گیا تھا تاہم طالبان نے ان خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے طالبان نے ملا منصور کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی تھی تاکہ لوگوں کو علم ہو سکے کہ وہ بخریت ہے۔