1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملا منصور کی ہلاکت کے بعد افغان امن عمل

افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نیا امیر منتخب کر لیا ہے۔ ساتھ ہی سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے بیٹے مولوی یعقوب کو نئے امیر کے نائبین بھی منتخب کر لیا گیا ہے۔

Afghanistan Mullah Haibatullah Achundsada

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ

اس بارے میں ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ ملا منصور کو دفنا دیا گیا ہے۔ ’’ملا اختر منصور کو قندھار اور بلوچستان کے درمیان سرحدی علاقے احمد وال میں نشانہ بنایا گیا۔ ہم اس قتل کا ذمہ دار امریکا کو سمجھتے ہیں۔ نیا امیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ طالبان متحد اور منظم ہیں۔ ان میں کوئی داخلی اختلاف نہیں ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملا منصور نے ایران سمیت مختلف ممالک کے دورے کیے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان ’حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ ملا منصور کا نہیں بلکہ طالبان کی شوریٰ کا تھا، جسے تسلیم کرنے کے سب پابند تھے‘۔

امریکا، افغانستان اور اب افغان طالبان بھی ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن اسلام آباد میں حکام ابھی تک یہ تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔ عام طور پر امریکا پر گرجنے والے پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی اب تک اس ہلاکت کی تصدیق نہیں کر پائے۔ پاکستان کے کئی حلقوں میں اس حملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی ذرائع کے مطابق، ’’پریشانی اس بات پر نہیں کہ ملا منصور مارا گیا۔ غصہ اس بات پر ہے کہ امریکی ڈرون حملوں کا استعمال قبائلی علاقوں کے علاوہ اب دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیا ہے۔‘‘

اسی دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے آج بدھ پچیس مئی کے روز امریکی سفیرڈیوڈ ہیل سے ملاقات کی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں آرمی چیف نے ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا اور اس کو خطے کے استحکام اور پاک امریکا تعلقات کے لیے ضرر رساں قراردیا، ’جس سے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے‘۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کی قربانیوں اور کامیابیوں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

لیکن متعدد سیاسی حلقوں کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ امریکا کو ان تحفظات کی کوئی خاص فکر نہیں ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صدر اور پاکستان اور افغانستان کے سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے سابق سینیٹر حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ امریکا جن کو دہشت گرد تصور کرتا ہے، وہ ان کا پیچھا کرے گا اور ان کو نشانہ بنائے گا۔ ’’اس نے اسامہ سمیت کئی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور آئندہ بھی وہ یہی کرے گا کیونکہ وہ ایک عالمی طاقت ہے۔‘‘ حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن عمل صحیح معنوں میں شروع ہی کب ہوا تھا کہ وہ متاثر ہو گا۔

Afghanistan Taliban-Führer Akhtar Mohammed Mansur durch Drohne getötet

ملا منصور پاکستانی صوبہ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا

’’ملا اختر منصور جب طالبان کا رہنما بنا، تو اس کی ساکھ ملا عمر کی موت کی خبر چھپانے کی وجہ سے پہلے ہی خراب ہو چکی تھی۔ اس لیے اس نے طالبان کو قابو میں رکھنے کے لیے تابڑ توڑ عسکری کارروائیاں کرائیں۔ میرے خیال میں ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ بالکل نہیں چاہے گا کہ طالبان کے حلقوں میں یہ تاثر پایا جائے کہ وہ (نیا رہنما) امن مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے ملا منصور کی طرح غیر لچکدار پالیسی اپنائے گا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں حاجی عدیل نے کہا، ’’ہمارے امریکا اور افغانستان سے بہت اچھے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم دہشت گردی کی تعریف ایک رکھیں اور چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو یا افغان طالبان سب کو ہی دہشت گرد سمجھیں۔ کیا افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کو کبھی ہمارے ملک کے شہروں اور علاقوں میں حملے کرنے سے روکا؟ ہمیں دہشت گردوں کے خلاف لڑنا چاہیے اور امریکا کو بتا دینا چاہیے کہ ہم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر نہیں لاسکتے۔‘‘

اسی دوران آسٹریلیا میں پاکستان کی سابق ہائی کمشنر فوزیہ نسرین نے کہا، ’’میرے خیال میں پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ امریکی ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ حملہ فاٹا میں نہیں ہوا بلکہ بلوچستان میں، جو یقینی طور پر پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ سردست ایسا نظر نہیں آتا کہ کوئی امن عمل شروع ہو گا کیونکہ ابھی تو ملا ہیبت اللہ کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں بھی وقت لگے گا۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکا طالبان پر دباؤ بڑھائے گا اور جو جنگجو مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوں گے، ان کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔ حکمت یار پہلے ہی مذاکرات پر راضی ہوگیا ہے اور افغان حکومت اور امریکا مذاکرات نہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔

DW.COM