1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملا عمر کی ہلاکت کی افواہ فون ہیکنگ کا نتیجہ، طالبان

افغانستان میں طالبان کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ ان کے روپوش رہنما ملا عمر زندہ ہیں اور خیریت سے ہیں۔

default

ترجمان نے ایک نامعلوم جگہ سے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی یہ افواہیں درست نہیں کہ ملا عمر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ملا عمر کی ہلاکت کی جھوٹی خبر میڈیا میں مبینہ طور پر امریکی ذرائع نے پھیلائی ہے۔ ترجمان کے بقول اس واقعے سے قبل طالبان کے ایک ترجمان نے اپنے ایک ٹیلی فون سے ذرائع ابلاغ کو ایک ٹیکسٹ میسیج بھیجا تھا، جس کے بعد امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس ٹیلی فون کو ہیک کر لیا تھا۔

ٹیلی فون ہیکنگ کے اس واقعے کے بعد میڈیا کو جو مبینہ جعلی پیغام بھیجا گیا تھا، اس میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ’’اسلامی امارات افغانستان کے امیر المومنین ملا عمر انتقال کر گئے ہیں، خدا ان کی مغفرت کرے۔‘‘

Afghanistan Taliban Mullah Omar

روپوش رہنما ملا عمر زندہ ہیں

ذبیح اللہ مجاہد نےAFP کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ذرائع ابلاغ کو اپنے موبائل ٹیلی فون سے یہ تحریری پیغام انہوں نے نہیں بھیجا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہ ملا عمر خیریت سے ہیں، انہیں ان کی ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے اور امریکی خفیہ اداروں نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے طالبان کے موبائل فونز کی ہیکنگ کے بعد یہ پیغام ذرائع ابلاغ کو بھیجا۔

طالبان کے ایک اور ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ملا عمر افغانستان میں ہیں، جہاں وہ طالبان کی قیادت کرتے ہوئے جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوسف احمدی کے بقول امریکی خفیہ اہلکاروں نے طالبان کے موبائل فونز ہیک کر کے ان ہی کے نمبروں سے میڈیا کو جو پیغام بھیجے، ان کی تعداد ایک سے زیادہ ہے۔

Krieg in Afghanistan

طالبان نے ٹیلی فون کمپنی سے بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق طالبان کے اس ترجمان نے یہ دھمکی بھی دی کہ طالبان اُس موبائل فون کمپنی کے خلاف بھی کارروائی کریں گے، جس کی وجہ سے امریکی خفیہ اہلکار طالبان کے ٹیلی فون ہیک کرنے میں کامیاب ہوئے۔

افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز جنوبی شہر قندھار سے ہوا تھا اور یہ شہر آج بھی اس جنگ زدہ ملک میں طالبان کی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ قندھار میں انٹیلی جینس کے شعبے کے نائب سربراہ عبد الوہاب شاہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان کے انٹیلی جینس کے قومی مرکز NDS کو اپنے ذرائع سے ملا عمر کی مبینہ ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وہاب شاہ کے مطابق اس بارے میں شروع میں خود طالبان ہی کی طرف سے ایک پیغام میں ملا عمر کی مبینہ ہلاکت کا ذکر گیا تھا۔ بعد میں ملنے والی میڈیا رپورٹوں میں طالبان کی طرف سے ان کی روپوش رہنما کی مبینہ ہلاکت کی تردید کی اطلاعات بھی ملی ہیں تاہم NDS کے اپنے ذرائع نے ایسی کسی خبر کی کوئی تصدیق نہیں کی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس