1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملا اختر منصور کی ہلاکت ایک معمہ

افغان طالبان کی طرف سے اُس کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبر کی تردید اور اس بارے میں متنازعہ خبروں کے سامنے آنے کے سبب یہ ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔

اسلامی باغی گروپ طالبان کی طرف سے مسلسل اس امر کی تردید کی جا رہی ہے کہ ملا اخترسینیئر طالبان لیڈروں کے ساتھ ہونے والی مسلح جھڑپوں میں زخمی ہوا تھا۔ طالبان کے متعدد ذرائع یہ کہہ چُکے ہیں کہ ملا اختر منصور، جن کی لیڈرشپ کو طالبان ہی کے ایک حریف دھڑے نے مسترد کر دیا ہے، پاکستانی صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نزدیک ایک اور طالبان لیڈر کے گھر پر مسلح جھڑپ میں شدید زخمی ہوا تھا اور غالباً اُس کی موت واقع ہو چُکی ہے۔

دریں اثناء افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ منصور مغربی پاکستان کے شہر کوئٹہ کے نزدیک ہونے والی مسلح جھڑپ میں زخمی ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے اس کے کوئی براہ راست شواہد نہیں ملے ہیں۔

Kalender mit Talibanführern

ملا عمر سمیت طالبان کے متعدد لیڈروں کی تصاویر پر مشتمل کیلینڈر

طالبان کے مرکزی ترجمان نے ملا اختر منصور کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کو افغان خفیہ سروسز کا پروپگینڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد طالبان کی صفوں کو غیر متحد کرنا اور ان میں پھوٹ ڈالنا یا ان میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور زندہ اور خیریت سے ہے۔

ملا اختر منصور کے بارے میں خبروں کو مبہم اور معمہ اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان کے بانی ملا محمد عُمر کی موت کے بعد بھی ایسی ہی پرسرار صورتحال سامنے آئی تھی۔ ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق اُس کے مرنے کے دو سال بعد گزشتہ جولائی میں ہوئی تھی۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مُجاہد کے مطابق ملا اختر منصور کی طرف سے ذاتی طور پراُس کا اپنا کوئی بیان اب تک سامنے نہیں آیا ہے اور سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت اور جامع بنانے کے عمل سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ منصور سے رابطہ قائم کرنے میں کُچھ وقت لگ رہا ہے۔

ذبیح اللہ مُجاہد کے بقول،’’ ہم سب خود اپنے لوگوں کے ذریعے اُس کی تلاش میں ہیں اور ملا منصور کی آواز ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اُسے میڈیا کو فراہم کریں اور اس طرح اُس کے بارے میں افغانستان کی کٹ پُتلی حکومت کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہوں کا سلسلہ ختم ہو۔

Mullah Mohammed Omar Gesucht FBI Belohnung

گزشتہ جولائی میں ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی

غیر یقینی کی یہ صورتحال پاکستان کی طرف سے امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کو مزید نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی۔ امن مذاکرات جولائی کے ماہ میں ملا عمر کی موت کی تصدیق کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

افغان حکام اس وقت طالبان میں دراڑ پڑنے اور اس کے مزید دھڑے بننے کی ہر چھوٹی بڑی علامت کے بارے میں نہایت محتاط ہیں۔ اس بارے میں ایک حکومتی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے کہا،’’ طالبان میں پیدا ہونے والے اختلافات اور اس مہم میں پڑنے والی دراڑیں حکام کو سہولت میسر کریں گی ان عناصر کو امن کا قائل کرنے یا انہیں الگ تھلگ کرنے کےعمل میں‘‘۔

DW.COM