1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملاڈچ کی گرفتاری کے خلاف سربیا میں مظاہروں کی کال

جنگی جرائم کے ملزم راتکو ملاڈچ کی گرفتاری کے خلاف سربیا میں انتہائی قوم پرست افراد کی جانب سے مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔

default

یورپ میں جنگی جرائم کے سب سے مطلوب ملزم راتکو ملاڈچ کی گرفتاری کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ سربیا کے قوم پرست پرتشدّد مظاہرے کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے آج اتوار کے روز سربیا کی انتہائی قوم پرست جماعت ریڈیکل پارٹی نے مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مناسبت سے بلغراد میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انیس سو بانوے سے پچانوےکے دوران بوسنیا جنگ کے دوران بوسنیائی سرب باشندے ملاڈچ پر بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کا الزام ہے۔ ملاڈچ کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت سربیا کی جیل میں ہے۔ امکاناً ملاڈچ کو منگل کے روز دی ہیگ میں قائم انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں انہتر سالہ ملاڈچ پر جنگی جرائم سے متعلق مقدمہ چلایا جائے گا۔

Ratko Mladic Gericht Belgrad NO FLASH

ملاڈچ اس وقت سربیا کی جیل میں ہے

ملاڈچ کے وکیل کے مطابق ملاڈچ نے اپیل کی ہے کہ ملک میں افراتفری نہ پیدا کی جائے اور خون خرابہ نہ کیا جائے۔ دریں اثناء بعض خبروں کے مطابق ملاڈچ کے بیٹے نے کہا ہے کہ ان کے والد نے بوسنیا جنگ کے دوران قتلِ عام کرنے کی تردید کی ہے۔

سن دو ہزار آٹھ میں بوسنیا جنگ کے ایک اور ملزم رادووان کاراڈچ کی گرفتاری کے بعد بلغراد میں پرتشدّد مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، جس کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی تھی۔

سابقہ بوسنیائی سرب فوجیوں کی ایک تنظیم نے بوسنیا کے ایک گاؤں کالینووچ میں مظاہرے کی کال دی ہے۔ یہ علاقہ ملاڈچ کی جائے پیدائش ہے۔ ملاڈچ کو سربیا میں بہت سے افراد ہیرو سمجھتے ہیں۔

ملاڈچ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملاڈچ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان کو دی ہیگ منتقل نہ کیا جائے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM