1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملالہ یوسفزئی کینیڈا کی پارلیمان سے خطاب کریں گی

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کینیڈا کی پارلیمان سے خطاب کریں گی۔ طالبان کے ایک حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی کو 2014ء نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی نوجوان کارکن ملالہ یوسفزئی ان کے ملک کی پارلیمان سے خطاب کریں گی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹروڈو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس موقع پر ملالہ یوسفزئی کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی وصول کریں گی جو انہیں 2014ء میں دی گئی تھی۔

جسٹن ٹروڈو کے مطابق انسانی حقوق کی 19 سالہ پاکستانی کارکن 12 اپریل کو کینیڈا کا دورہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کینیڈا کی پارلیمان سے خطاب کرنے والی نوجوان ترین شخصیت ہوں گی۔ پیر تین اپریل کو ٹروڈو نے مزید بتایا کہ ملالہ کے ساتھ وہ لڑکیوں کو تعلیم کے ذریعے خودمختار بنانے کے معاملے پر  بات چیت بھی کریں گے۔

Malala Yousafzai

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ملالہ کی جدوجہد کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور انہیں 2014ء کا نوبل امن بھی دیا گیا

ملالہ یوسفزئی کی عمر اُس وقت 15 برس تھی جب طالبان عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔ پاکستانی علاقے سوات میں ملالہ یوسف زئی لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کی حمایت جاری رکھے ہوئی تھیں۔

طالبان حملے کے بعد پہلے ان کا علاج پاکستان ہی میں کیا گیا تاہم ان کی نازک حالت کے باعث بعد ازاں انہیں برطانیہ کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا  گیا تھا۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ملالہ کی جدوجہد کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور انہیں 2014ء کا نوبل امن بھی دیا گیا۔

ملالہ یوسفزئی ایسی محض چھ میں سے ایک شخصیت ہیں جنہیں کینڈا کی اعزازی شہریت سے نوازا گیا ہے۔