1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملالہ کی ’ملالہ‘ سے ملاقات

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے برطانوی شہر نیو کیسل میں تعلیم کے لیے سرگرم شامی لڑکی موزون الملیان سے ملاقات کی ہے۔ موزون کو شامی ملالہ کہا جاتا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کی تقریباً دو سال قبل اردن کے ایک مہاجر کیمپ میں موزون الملیان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس موقع پر ملالہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے باتیں کرتے ہوئے کہا ’’مجھے امید ہے کہ عالمی رہنماؤں نے مستقبل کی نسل کو تعلیم کے بنیادی انسانی حق سے آراستہ کرنے کا جو وعدہ کیا ہے وہ اس سے انہیں محروم نہیں کریں گے‘‘۔

اٹھارہ سالہ ملالہ کے بقول انہیں امید ہے کہ 2016ء کے دوران شام میں جنگ رک جائے گی اور بہر حال اس ملک میں امن کے قیام کے لیے عالمی طاقتوں کو بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ سترہ سالہ موزون نے ملالہ کے ساتھ نیو کیسل شہر میں ہونے والی اس بات چت پر خوشی کا اظہار کیا۔ ’’ ہمیں تعلیم کی بات کرنی چاہیے اور خاص طور پر کہ کس طرح شامی بچوں کی مدد کی جا سکتی ہے کیونکہ شام میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے‘‘۔

موزون کا تعلق شامی شہر درعا سے ہے۔ ان کے خاندان نے 2013ء میں شام چھوڑا تھا۔ یہ لوگ اردن کے دو مختلف مہاجر کیمپوں میں رہے اور اس کے بعد تقریباً تین سال بعد برطانیہ میں آباد ہونے کی ان کی درخواست کو قبول کیا گیا۔ اب موزوں اپنے والدین، دو بھائیوں اور ایک چھوٹی بہن کے ساتھ نیو کیسل میں رہ رہی ہے۔ یہ خاندان تقریباً بیس روز قبل ہی برطانیہ پہنچا ہے۔ موزون کے بقول ’’مجھے بخوبی علم ہے کہ میں یہاں اچھی تعلیم حاصل کروں گی اور میں صحافی بننا چاہتی ہوں‘‘۔

ملالہ 2012ء سے برمنگھم میں رہائش پذیر ہیں جبکہ موزون مشرق وسطٰی سے تعلق رکھنے والی ایسی پہلی پناہ گزین ہیں، جو کسی مہاجر کیمپ سے برطانیہ منتقل ہوئی ہیں۔ ملالہ کے مطابق انہیں امید ہے کہ نیو کیسل کے باسی موزون کا بھی اسی طرح سے استقبال کریں گے، جیسا برمنگھم میں ان کا کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق تقریباً چھبیس لاکھ شامی بچے اسکول نہیں جا رہے۔ ملالہ اور موزون نے مل کر اگلے برس جولائی میں لبنان کے ایک مہاجر کیمپ میں اسکول کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔