1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملالہ کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ’نظریہ منافرت‘ کی مذمت

نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے امریکا میں رپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں سے متعلق حالیہ بیانات کو ’نظریہ منافرت‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

Malala Yousafzai

یہ ایک المیہ ہے کہ آپ کو ایسے بیان اور تبصرے سننے کو ملیں، جو نفرت سے بھرے ہوئے ہوں، ملالہ

برطانیہ میں برمنگھم سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ امریکی رپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں سے متعلق حالیہ بیانات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ وہ ایک ایسی سوچ کی نمائندگی بھی کرتے ہیں، جس کی بنیاد دوسرے انسانوں کے بارے میں امتیازی رویہ ہے۔

وسطی انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں، جہاں ملالہ یوسفزئی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، اس پاکستانی طالبہ نے پشاور میں گزشتہ برس آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ بیانات کے بارے میں کہا، ’’یہ واقعی ایک المیہ ہے کہ آپ کو ایسے بیان اور تبصرے سننے کو ملیں، جو نفرت سے بھرے ہوئے ہوں۔‘‘

امریکا کے ارب پتی رپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نےکیلیفورنیا میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ کیلیفورنیا کے شہر سان بیرناڈینو میں یہ دہشت گردانہ حملہ ایک مسلمان امریکی شہری اور اس کی بیوی نے کیا تھا، جس میں 14افراد مارے گئے تھے۔

پشاور میں ایک سال قبل 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے سلسلے میں منعقدہ اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر شدید تنقید کی، جن کی بہت سے مسلمان ملکوں میں عام شہریوں اور سیاستدانوں حتیٰ کہ کئی یورپی اور امریکی رہنماؤں نے بھی مذمت کی تھی۔

USA möglicher Präsidentschaftskandidat Republikaner Trump

ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگائی جانی چاہیے

ضیاالدین یوسفزئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت بڑی ناانصافی ہے اور اسے ایک غیر منصفانہ عمل کہنا پڑے گا کہ چند انتہا پسند تنظیموں کو دنیا بھر کے 1.6 ارب مسلمانوں سے جوڑ دیا جائے۔‘‘

برمنگھم میں پشاور اسکول حملے کی برسی کے موقع پر اس تقریب کا اہتمام ملالہ یوسفزئی اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے کیا گیا تھا اور اس میں آرمی پبلک اسکول پر پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کے حملے میں زندہ بچ جانے والے دو طلبہ نے بھی شرکت کی۔ یہ دونوں طلبہ 14 سالہ احمد نواز اور 13 سالہ محمد ابراہیم تھے۔ پشاور اسکول حملے میں مجموعی طور پر 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے 130 سے زائد وہاں زیر تعلیم طلبہ تھے۔