1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملالہ کی انیسویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کا ملالہ ڈے

ملالہ یوسف زئی آج اپنی انیسویں سالگرہ کے موقع پر افریقی ملک کینیا میں مہاجرین کے سب سے بڑے کیمپ کا دورہ کر رہی ہیں تاکہ مہاجرین کے بحران کی طرف عالمی توجہ دلا سکیں۔

دنیا کی سب سے کم عمر نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بارہ جولائی سن دو ہزار تیرہ میں اقوام متحدہ سے خطاب میں دنیا بھر میں تعلیمی سہولیات فراہم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملالہ کے اس خطاب کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی تھی اور اقوام متحدہ نے اس دن کو ’ملالہ ڈے‘ کے طور پر منائے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ملالہ پاکستان کے شہر سوات میں سن انیس سو ستانوے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سوات میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں پر حملوں کے خلاف ملالہ نے مسلسل آواز اٹھائی اور ان کی کوششوں کے اعتراف میں انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہونا شروع ہوئی۔ اکتوبر دو ہزار بارہ میں اس نوجوان لڑکی پر طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا اور سر پر گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگئی۔

دنیا بھر میں ایک نہتی لڑکی پر اس حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ ملالہ کو علاج کے لیے برطانیہ لے جایا گیا اور اب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہیں رہائش پذیر ہیں۔

آج اپنی سالگرہ کے موقع پر ملالہ کینیا میں مہاجرین کے دنیا میں سب سے بڑے کیمپ ’داداب‘ کا دورہ کرر ہی ہیں۔ ملالہ کے ترجمان نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ گزشتہ برس سکائپ کے ذریعہ ملالہ اس کیمپ کی کچھ لڑکیوں کے ساتھ رابطے میں تھیں اور اب ملالہ ان سے ملاقات کر رہی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ملالہ نے اس موقع پر کہا،’’ میں یہاں صومالیہ کی ان لڑکیوں کی کہانیاں سننے آئی ہوں جو تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ کینیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ داداب کیمپ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اگلے برس بند کر دے گی۔ اس کیمپ میں تین لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق صومالیہ سے ہے۔

ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق ملالہ ڈے کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا،’’ملالہ نے اپنی بہادری اور ہمت سے پاکستان کو جہالت کے اندھیروں میں ڈوبنے سے بچایا ہے، ملالہ ایک اعتدال پسند، جدید اور معاشرتی طور پر برداشت کا مظاہرہ کرنے والے پاکستان کا چہرہ ہیں۔‘‘

سوشل میڈیا پر کئی افراد اقوام متحدہ میں ملالہ کی تقریر کا یہ جملہ ’ ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا بدل سکتے ہیں’ کو شیئر کر رہے ہیں۔

آج ’ملالہ ڈے‘ کے موقع پر پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’ملالہ ڈے‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جہاں بہت سے افراد تعلیم کے لیے ملالہ کی خدمات اور ان کی بہادری کا اعتراف کرتے ہیں تو وہیں کچھ افراد انہیں پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہونے پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔

DW.COM