1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ملالہ کو اب واپس آ جانا چاہیے‘

عالمی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی تعلیم و امن کے لیے جدوجہد اور قربانی کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملالہ کے آبائی علاقے میں طلباء و طالبات اب اس کی سوچ اور نطریے کی پیروی کر رہے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کی آواز دبانے کے لیے 09 اکتوبر 2012 ء کو سکول سے واپسی پر اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں وہ اپنی دیگر دو سہیلیوں سمیت زخمی ہوئی۔ ملالہ کو برطانیہ منتقل ہوئے تین سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران ملالہ نے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ 10 اکتوبر2014 ء کو ملالہ کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا اور یوں ملالہ عالمی سطح پر ایک آئیکون کی شکل میں سامنے آئی۔

برطانیہ میں ملالہ تعلیم کے ساتھ ساتھ امن اور تعلیم کے لیے بھی سر گرم عمل ہے جبکہ ملالہ کے آبائی علاقے کے طلباء و طالبات اور امن کے لیے کام کرنے والے اب ملالہ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ تعلیم کے لیے سرگرم ڈاکٹر جواد اقبال نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ یوسف زئی کی جدوجہد کے باعث علاقے میں مثبت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں ’’جو لوگ امن، تعلیم اور اپنے علاقے کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے ان کو حوصلہ ملا ہے۔ ملالہ کی وجہ سے ان لڑکیوں کو حوصلہ ملا جو تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھیں اور اُن والدین کی بھی ہمت بڑھی ہے، جو اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے سے ڈرتے تھے۔‘‘ ڈاکٹر جواد نے مزید کہا کہ آج یہاں کے بچے اور بچیاں ہر میدان میں ملالہ کی سوچ کو آگے لے جا رہے ہیں اور اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ ’’ آج سوات میں امن ہے ملالہ کو اس وقت واپس ضرور آنا ہو گا کیونکہ یہاں آ کر ہی وہ یہاں کے دیگر مسائل کو بخوبی حل کر سکتی ہے‘‘۔

سوات میں کشیدگی کے دوران ملالہ نے اپنی کاوشوں سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہاں کے لوگ امن اور تعلیم سے محبت کرنے والے ہیں ۔ ملالہ کی سہیلی اور طالبہ گل نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کو اب واپس آنا چاہیے ’’ملالہ ہی کی وجہ سے ہمیں دنیا میں عزت ملی اور ہمارا سر فخر سے بلند ہوا۔ ہماری خواہش ہے کہ ملالہ واپس پاکستان آئے اور یہاں ہمارے ساتھ رہ کر امن اور تعلیم کے لیے مزید کام کرے۔‘‘

ملا لہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے تین سال پورے ہو گئے ہیں۔ اس دوران حملہ آوروں کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔ صحافی رفیع اللہ خان کا کہنا ہے کہ آج بھی سوات سمیت پورے صوبے میں بے شمار تعلیمی مسائل ہیں’’پہاڑی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے کالج کا خاص انتظام نہیں اور بچیاں میٹرک کے بعد ہی تعلیمی سلسلہ منقطع کردیتی ہیں۔ غربت حصول تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے حل کے لیے ملالہ کو آگے آنا ہوگا‘‘۔ محکمہ تعلیم کے مطابق سوات میں28 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سوات میں 56 فیصد لڑکیاں اور44 فیصد لڑکے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق ضلع بھر میں لڑکوں کے سکولوں کی تعداد 1016جبکہ لڑکیوں کے 655 اسکول ہیں۔

ضلع شانگلہ میں بھی تعلیم کی ابتر صورت حال کے باعث لڑکیاں مشکلات کا شکار ہیں۔ شانگلہ کی رہائشی طالبہ ندرت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شانگلہ میں لڑکیوں کے لیے ایک بھی کالج موجود نہیں ہے جبکہ لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہے’’یہاں کی طالبات بھی بہتر اور اعلیٰ تعلیم کی خواہش مند ہے اور ملالہ کی طرح کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملالہ واپس آئے اور شانگلہ کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے اقدامات اُٹھائے۔‘‘

سوات سمیت پورے خیبر پختون خواہ میں لوگ اور خاص کر امن و تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ کی جدوجہد کو سراہتے ہیں وہی یہ مطالبہ کر رہے ہیں اورتوقع رکھتے ہیں کہ ملالہ کی جلد از جلد وطن واپسی مکمن بنائی جا سکے۔