1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملالہ کا اسکول ختم، ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال

ملالہ یوسفزئی نے اسکول کی تعلیم سے فارغ ہونے کے فوری بعد ہی اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بنا لیا ہے۔ انہوں نے اپنے عہد کو دہرایا ہے کہ وہ بچیوں کے حقوق کی خاطر اپنی کوشش جاری رکھیں گی۔

بچیوں کی تعلیم کے لیے فعال ملالہ یوسفزئی کی اسکول کی تعلیم سات جولائی بروز جمعہ اختتام کو پہنچی اور انہوں نے اسی دن ٹوئٹر کلب میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں کہا، ’’آج اسکول میں میرا آخری دن ہے جبکہ ٹوئٹر کا پہلا۔‘‘ چند گھنٹوں میں ہی انہیں فالو کرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ اسی برس بیس برس کی ہو جائیں گی۔ اکتوبر سن دو ہزار بارہ میں پاکستان میں جب طالبان نے ان پر حملہ کیا تھا تو انہیں زخمی حالت میں برطانوی شہر برمنگھم منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ان کا علاج کیا گیا تھا۔ صحت مند ہونے کے بعد انہوں نے اسی شہر کے ایک اسکول میں داخلہ لے لیا تھا۔

تعلیم کے حصول سے روکنے کی خاطر انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے علم کے حصول کا اپنا سفر جاری رکھا اور اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کا ایک اعزاز قرار دیا۔ بچیوں کی تعلیم کی خاطر ان کی کوششوں کے صلے میں انہیں سن دو ہزار چودہ میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔

اپنے اولین ٹوئٹر پیغامات میں ملالہ نے مزید کہا کہ ان کے لیے اسکینڈری اسکول کا تجربہ کٹھی میٹھی کیفیات پر مبنی رہا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’میں جانتی ہوں کہ دنیا بھر میں لاکھوں بچیاں اسکول جانے سے قاصر ہیں اور انہیں شاید اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع کبھی نہ مل سکے۔‘‘

ملالہ یوسفزئی نے البتہ کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں ’پرجوش‘ ہیں اور وعدہ کرتی ہیں کہ وہ بچیوں کے حقوق کی خاطر کوششیں کرتی رہیں گی۔ ملالہ یوسفزئی اسکول میں اپنی کلاس میں ایک نمایاں اسٹوڈنٹ قرار دی جاتی تھیں اور آئندہ ماہ ان کے اے لیول امتحانات کا نتیجہ بھی سامنے آ جائے گا۔

ملالہ یوسفزئی کو برطانیہ کی معتبر آکسفورڈ یونیوسٹی نے داخلہ دینے کی پشکش کر رکھی ہے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کی خاطر سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات جیسے مضامین کا انتخاب کر رکھا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے کئی برطانوی اور عالمی سیاستدان پیدا کیے ہیں، جن میں پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی شامل ہیں۔