1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملالہ بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی

تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے، جو پاکستانی طالبان کے ایک قاتلانہ حملے میں زندہ بچ جانے کے بعد علاج کے لیے برطانیہ چلی گئی تھی، امتحانات میں بہت ہی اچھے نمبر حاصل کیے ہیں۔

خبر رساں اداروں کی متفقہ رپورٹوں کے مطابق اُس نے وہاں GCSE یعنی جنرل سرٹیفیکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحان میں چھ مضامین میں اے سٹار گریڈ حاصل کیے، یعنی اتنے زیادہ کہ جس سے زیادہ اچھے نمبر کسی طالب علم کے لیے لینا ممکن ہی نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس نے چار مضامین میں اےایس گریڈ حاصل کیے ہیں۔

ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے:’’میری اہلیہ طُور پیکائی کو اور مجھے ملالہ پر فخر ہے۔ تعلیم، ہر بچے کے لیے۔‘‘

ملالہ نے جن مضامین میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، وہ ہیں، بائیالوجی، کیمسٹری، فزکس، مذہبی علوم اور ریاضی کے دو مضامین۔

وادیٴ سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ اپنے اسکول کے دنوں سےیہ جدوجہد کرتی رہی تھی کہ لڑکیوں کو بھی تعلیم کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اسی جدوجہد کی پاداش میں تین سال پہلے 2012ء میں طالبان نے اُسے اُس وقت سر میں گولی مار دی تھی، جب وہ اپنی اسکول بس میں سوار جا رہی تھی۔

ملالہ نے، جس کی عمر اس وقت اٹھارہ سال ہے، انگلینڈ میں علاج کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی پھر سے شروع کر دیا تھا۔

آج کل ملالہ مستقل طور پر وسطی انگینڈ کے شہر برمنگھم میں اپنے کنبے کے باقی افراد کے ساتھ رہ رہی ہے اور اَیجبیسٹن ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، جس میں صرف لڑکیاں پڑھنے جاتی ہیں۔

ملالہ کا خواب ہے کہ وہ بڑی ہو کر کبھی نہ کبھی پاکستان کی وزیر اعظم بنے۔ 2014ء میں اُسے اور بھارت کے کیلاش ستھیارتھی کو بچوں کی تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے مشترکہ طور پر امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ ملالہ یہ انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین فرد تھیں۔

برطانیہ میں GCSE یعنی جنرل سرٹیفیکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانات عام طور پر ہائی اسکول کے پانچویں سال کے آخر میں لیے جاتے ہیں اور بچوں کو جمعرات کے روز نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا۔

بارہ جولائی 2013ء کو اپنی سولہویں سالگرہ پر ملالہ نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا میں تعلیم تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس دن کو ’ملالہ ڈے‘ قرار دیا تھا۔

پاکستانی میڈیا کی جانب سے بھی ملالہ کو امتحانات میں اُس کی کامیابی پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا:’’اب تو ملالہ یوسف زئی کوئی بھی کارنامہ کرے تو تعجب نہیں ہوتا لیکن وہ بدستور پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘‘