1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملالہ، اقوام متحدہ کی امن کی سب سے کم عمر پیامبر

ملالہ کا کہنا ہے کہ اسے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور  میڈیا کی جانب سے دہشتگردوں کو ’اسلامی جہادی‘ قرار دینے پر مایوسی ہوتی ہے۔ ملالہ کے مطابق ’اسلامی جہادی‘ کہنے سے عام لوگ مذہبِ اسلام کو اِس کا قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

انیس سالہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفز ئی کو پیر دس اپریل گزشتہ روز ایک تقریب میں اقوام متحدہ کی جانب سے امن کا پیامبر بنایا گیا۔ ملالہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی سب سے کم عمر فرد ہے۔ اس موقع پر ملالہ کا کہنا تھا،’’ انتہا پسندوں نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ مجھے دوسری زندگی ملی ہے۔‘‘ ملالہ نے کہا اپنے دوسرے جنم میں وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔

ملالہ نے اپنے تقریر میں کہا، ’’ لوگوں کو مجھے اور ان جیسے مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے جو پرامن ہیں اور امن پر یقن رکھتے ہیں ناکہ ان کو دیکھیں جو اسلام کا نام استعمال کر کے دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔‘‘ نوبل انعام یافتہ ملالہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمانوں کو بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے اور انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف زیادہ قوت کے ساتھ کھڑے ہو کر ساری دنیا پر واضح کرنا ضروری ہے کہ  وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔

USA Malala Yousafzai in New York (Getty Images/D. Angerer)

انیس سالہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفز ئی کو پیر دس اپریل گزشتہ روز ایک تقریب میں اقوام متحدہ کی جانب سے امن کا پیامبر بنایا گیا

اس تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیوٹیرش کی جانب سے ملالہ یوسفزئی کو وہ اعلیٰ اعزاز دیا گیا جو کہ اقوم متحدہ کے سربراہ کی جانب سے کسی بین الاقوامی شہری کو مل سکتا ہے۔ انہوں نے ملالہ کو ’ہیرو‘  کہا اور اسے ایک ایسی مشعل راہ ٹھہرایا جس نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر تعلیم اور مساوات کے لیے آواز اٹھائی۔

ملالہ نے کہا کہ لڑکیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے عمل اور ان کی آواز بہت اہم ہے اور اس وقت اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ملالہ نے اس موقع پر اپنے والد کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا،’’ اُن کے والد کی طرح دوسرے مردوں کو بھی عورتیں کے پر کاٹنے نہیں چاہیں بلکہ انہیں اڑنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیں۔‘‘

DW.COM