’ملازمہ کے ساتھ محبت ، رشتے میں بدلنا ناممکن‘ | معاشرہ | DW | 15.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ملازمہ کے ساتھ محبت ، رشتے میں بدلنا ناممکن‘

بھارتی فلم ‘سر‘ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک امیر نوجوان اپنے گھر میں کام کرنے والی بیوہ ملازمہ کے ساتھ محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔  اس فلم کے ذریعے بھارت کے سماجی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

روحینا گیرا کی فلم ‘سر‘ کو کن فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس فلم میں ایک ایسے امیر نوجوان کو دکھایا گیا ہے، جو ممبئی کے انگریزی بولنے والے امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس شخص کو اپنے گھر کی بیوہ ملازمہ سے محبت ہو جاتی ہے، جو ان ہی کے گھر میں انتہائی چھوٹے سے کمرے میں رہائش پذیر ہے۔ گیرا کا کہنا ہے کہ وہ جب امریکا سے تعلیم حاصل کر کے واپس بھارت گئیں تو انہیں امیروں اور غریبوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پریشان کرتا رہا۔ گیرا نے ایک ایسی فلم بنانے کا سوچا، جو اس سماجی مسئلے پر روشنی ڈال سکے۔

گیرا کے مطابق بھارت میں اب ذات کے بجائے معاشی بنیادوں پر فرق کیا جانا شروع ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی معاشرہ کچھ چیزوں کے معاملے میں بہت زیادہ سخت ہے۔ اس فلم میں انہوں نے بیوہ عورتوں کے ساتھ پیش آنے والے رویوں کو بھی فلمایا ہے۔ گیرا کہتی ہیں کہ آج بھی بھارت میں بیوہ عورت سفید لباس پہننے پر مجبور ہے۔ اگر اس کی اولاد ہے تو بہت ہی مشکل ہے کہ وہ کسی شخص میں دلچسپی لے سکے اور دوبارہ شادی کا سوچنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایک عورت جس کا شوہر ہلاک ہو جائے اس کے لیے زندگی کی خوشیاں اس کے شوہر کے مرنے کے ساتھ ہی مر جاتی ہیں۔

ممبئی کی کچی بستی سے نیویارک بیلے ڈانس اسکول تک

اس مسئلے کے ساتھ وہ اپنی فلم میں ان امیر افراد کی بھی مشکل کو دکھاتی ہیں جو معاشرے میں اپنے اعلیٰ مقام کے باعث بہت سے کام نہیں کر سکتے۔ جیسے کہ اس فلم میں اگر یہ نوجوان شخص چاہے بھی تو غریب ملازمہ سے شادی نہیں کر سکتا۔ اگر اس نے ایسا کر لیا تو اس لڑکے کے رشتہ دار اور گھر والے اس غریب دلہن کے ساتھ نہ بات کرنا چاہیں گے نہ ہی ایک میز پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔

ب ج/ اا (اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 03:00
Now live
03:00 منٹ

نئی دہلی: امارت اور غربت کا سنگم

DW.COM

Audios and videos on the topic