1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملائیشیا کے موٹے پولیس اہلکار، حکومت کو کروڑوں کا نقصان

ایک سو دو کلو وزنی محمد رحیم کا شمار ملائیشیا کے ان ہزاروں پولیس اہلکاروں میں ہوتا ہے، جنہیں فوری پر وزن کم کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ موٹاپے کی وجہ سے ان کی صلاحتیں محدود اور حکومت کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔

رائل ملائشین پولیس کے مطابق ان کے ایک لاکھ بائیس ہزار پولیس افسروں میں سے تقریباﹰ گیارہ ہزار کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے اور اس طرح ان کے تقریباﹰ دس فیصد پولیس افسران موٹاپے کا شکار ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زیادہ وزن والے پولیس اہلکار زیادہ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں چھٹیاں بھی زیادہ کرنی پڑتی ہیں اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو لاکھوں ڈالر کا پیدواری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پولیس کی اعلیٰ قیادت نے گزشتہ ماہ پولیس اہلکاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے خود کو وزن کم کرتے ہوئے فِٹ نہ کیا تو مستقبل میں ان کی ترقیاں روک دی جائیں گی جبکہ وزن میں کمی کے لیے خصوصی کورسز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔

Malaysia Polizist mit Übergewicht Mohamad Ra'ayim Jemahir

رائل ملائشین پولیس کے مطابق ان کے ایک لاکھ بائیس ہزار پولیس افسروں میں سے تقریباﹰ گیارہ ہزار کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے

چالیس سالہ محمد رحیم اپنے موٹاپے کا ذمہ دار ملائیشیا کے چٹ پٹے اور چکنائی سے بھرپور کھانوں کو قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو یہ بھی شکایت تھی کی لمبی ڈیوٹی کے دوران بھی انہیں اسی قسم کے کھانے فراہم کیے جاتے ہیں۔ تاہم نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پہلے مجھے جہاں بھی کھانا نظر آجاتا میں کھانا شروع کر دیتا تھا لیکن اب میں اسی وقت کھاتا ہوں، جب مجھے ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اس پولیس اہلکار کو اپنا وزن کم از کم سولہ کلوگرام کم کرنے کا کہا گیا ہے۔

پولیس فورس کے انتظامی ڈائریکٹر ذوالکفل عبداللہ کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ موٹے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے افسران ذیابیطس کے شکار ہیں، ان کا بلڈ پریشر تیز رہتا ہے اور اس سے کئی بیماریاں جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ کی بنیادیوں پر 560 پولیس افسران بیمار ہونے کی وجہ سے چھٹی کرتے ہیں، ’’سن دو ہزار پندرہ میں ہمارے 200 افسران ہارٹ اٹیک اور ذیابیطس کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ ایسی ہلاکتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔‘‘ حکام کی جانب سے ان خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے بھی کورسز متعارف کروائے گئے ہیں، جن کا وزن مقررہ حد سے زیادہ ہے۔

نہ صرف پولیس بلکہ ملائیشیا بھر میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ملائیشیا کی نصف سے زیادہ آبادی کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کی وجہ وہاں اقتصادی ترقی کے ساتھ آنے والا ماڈرن فوڈ اسٹائل بھی ہے۔