1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملائیشیا کے اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کا فیصلہ

ملائیشیا میں قدامت پسند مذہبی جماعتوں اور فاضل کام کے بوجھ تلے دبے اساتذہ کے اعتراضات کے باوجود فیصلہ کیا گیاہے کہ اگلے سال سے ملک کے تمام اسکولوں کے سیکنڈری لیول پر جنسی آگاہی سے متعلق تعلیم دی جائے گی۔

default

ملائیشیا نے قدامت پسند مذہبی جماعتوں اور فاضل کام کے بوجھ تلے دبے اساتذہ کے اعتراضات کے باوجود فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال سے ملک کے تمام اسکولوں کے سیکنڈری لیول پرسیکس ایجوکیشن یعنی جنسی آگاہی سے متعلق تعلیم دی جائے گی۔

ملائیشیا کے تعلیمی حکام کے مطابق یہ 40 منٹ کی کلاس ہوگی اور اسے "سماجی اور تخلیقی صحت کی تعلیم" کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ملائیشیا کے ڈپٹی وزیرتعلیم وی کاسیونگ بتاتے ہیں کہ یہ کلاس ہفتے میں ایک بار ہوگی اور اس میں 13سے 17 برس تک کی عمر کے بچوں کو صحت، نفسیات، جنسی تعلقات، خاندان اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے تعلیم دی جائے گی۔

وی کاسیونگ مزید کہتے ہیں، " اس کلاس میں صرف جنسی تعلیم ہی نہیں دی جائے گی بلکہ نئی نسل کو ان تمام عناصر سے لیس کیا جائے گا جو ان کو سن شعور تک پہنچنے کے عمل میں مدد دے گا۔"

Deutschland Geburten Statistik Baby auf Geburtsstation

ملائیشیا میں سالانہ کم سے کم ایک سو نو زائیدہ بچوں کولاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے

جنسی تعلیم دینے کا خیال ملائیشیا کی حکومت نے گزشتہ سال اس وقت پیش کیا تھا جب پولیس کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ ملک میں سالانہ کم سے کم ایک سو نو زائیدہ بچوں کولاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ بعض اعداد و شمار کے مطابق صرف دارالحکومت کوالا لمپور میں ہر دس دن بعد ایک لاوارث بچہ ملتا ہے۔

حکومت کے اس اقدام کو گوکہ کئی والدین نے سراہا ہے تاہم زیادہ تر اساتذہ اس خیال کی مخالفت کررہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک تو پہلے ہی ان سے زیادہ کام لیا جا رہا ہے دوسرا یہ کہ اساتذہ اس مضمون کو پڑھانے کے لئے ضرورت کے مطابق اہلیت نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ حکومت نے اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ اسکولوں میں جنسی تعلیم دینے کا فیصلہ واپس لے رہی ہے اور اس کی بجائے اب جنسی آگاہی سے متعلق موضوعات کو موجودہ مضامین جیسے بائیالوجی، سائنس، زبان سیکھانے والی کلاسوں اور مذہبی تعلیم کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس