1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ملائیشیا میں ٹی وی کا ینگ امام ریالٹی شو

امریکی ٹیلی وژن کے ریالٹی شوز مثلاً امریکن آئیڈیل یا دی ایکس فیکٹر کے انداز پر مشرق بعید کے مسلمان ملک ملائیشیا کے ایک ٹی وی چینل نے منفرد شو کا اہتمام کیا، جس کا پہلا سیزن اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے۔

default

ریالٹی شو کے فائنل تک پہنچنے والے شرکاء

ملائیشیا کے ایک ٹیلی وژن چینل کے اِس خصوصی ریالٹی شو کا نام ’’ینگ امام ‘‘ تھا۔ اس کے فائنل مرحلے میں دس نوجوان مذہبی سکالرپہنچے اور انجام کار محمداسیراف محمد رضوان فاتح قرار پائے۔ وہ بقیہ نو شرکاء کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سوچ کے ذریعے ایک نئی جہت دینے کی کوشش کریں گے تاکہ اسلامی دنیا میں سخت یا کٹر تشخص کی جگہ نرم رویوں کو فروغ دیا جا سکے اور کسی شخصیت کے اعتدال پسند پہلوؤں کو کھل کر ابھرنے کا موقع فراہم ہو سکے۔

’’ینگ امام‘‘ نامی شو میں شرکاء کو کئی معاملات پر قرانی آیات کی زبانی تلاوت بھی کرنا پڑی جبکہ مختلف مسائل پر قرآن فہمی کا ٹیسٹ بھی شو کا حصہ تھا۔ ہر ہفتے عوامی ووٹوں کی بنیاد پر ایک نوجوان مقابلے سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ ریالٹی شو کے دوران دس شرکاء سے نہ صرف اسلامی اصولوں کے تحت مُردہ انسانوں کو غسل دلوایا گیا بلکہ درست انداز میں جانور بھی ذبح کروائے گئے۔

’’ینگ امام‘‘ نامی ریالٹی شو کے لئے کل ایک ہزار افراد نے اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ان نوجوانوں سے باقاعدہ طور پر زبانی اور تحریری امتحان لیا گیا۔ آخری مرحلے کے دس افراد کو ایک طرح سے معاشرتی اور سماجی

Wahlen in Malaysia, Muslimin geht an einem Wahlplakat von Abdullah Ahmad Badawi vorbei

ملائشیا: عام انتخابات میں عبداللہ بداوی کے پوسٹر اور گزرتی مسلمان خاتون: فائل فوٹو

اعتبار سے مکمل طور پرعلٰیحدہ کر دیا گیا تھا تاکہ وہ کسی بھی قسم کی مدد کسی بھی انداز میں حاصل نہ کر سکیں۔ اُنہیں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سے بھی دور رکھا گیا۔ فیس بک پر فائنل پروگرام کے مداحوں کی تعداد اسی ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ ابھی بھی یہ شو فیس بک پر مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہے۔

ینگ امام کے فاتح محمداسیراف محمد رضوان نے کامیابی کے بعد کہا کہ وہ نوجوانوں میں مذہبی میلان پیدا کرنے کو اہم خیال کرتے ہیں اور ان کے مطابق اپنے حلقے کے افراد پر واضح کیا جائے گا کہ مذہب کا نرم اور خوشگوار پہلو ہی بہتر شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ اٹھائیس سالہ محمداسیراف محمد رضوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی جدوجہد میں بچوں اور بڑوں کو بھی شامل کریں گے تا کہ ہر سطح پر دین کی آگہی ممکن ہو سکے۔

محمد اسیراف محمد رضوان نے اپنی عمومی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ روزانہ فٹ بال کھیلتے ہیں۔ ینگ شو کی کامیابی کے حوالے سے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس شو کی وجہ سے بے شمار نوجوان بھرپور انداز سے شو میں شریک رہے۔ شو میں کامیابی حاصل کرنے والے ینگ امام کے علاوہ کچھ دوسرے نوجوان سکالرز اب ینگ امام کلب قائم کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔

ریالٹی شو نشر کرنے والے پے ٹی وی ’’ایسٹرو‘‘ کے زینیر امین اللہ کا کہنا ہے کہ اس شو نے بنیادی رسوم و قواعد کو توڑنے کی ایک اہم کوشش کی ہے اور یہی اس کی کامیابی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM