1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ملائیشیا میں بیئر پینے پر خاتون کو سزا

ملائیشیا میں بیئر پینے کے جرم میں ایک خاتون کو جرمانے کے علاوہ پہلی مرتبہ بید مارنے کا حکم بھی سنایا گیا ہے جس پر عمل اگلے ہفتے ہوگا۔

default

مجموعی طور پر ملائیشیا کو بہت زیادہ مذہبی برداشت والا معاشرہ سمجھا جاتا ہے

کرتیکا سوکارنو دو بچوں کی ماں ہیں ۔ انہیں اگلے ہفتے جیل لے جایا جائے گا جہاں بیئر پینے کے جرم میں انہیں اسلامی سزا کے طور پر چھ بید مارے جائیں گے۔ 32 سالہ کرتیکا نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں یہ سزا جیل میں نہیں بلکہ سر عام دے۔ کرتیکا کا کہنا کہ ان کے اس مطالبے کا مقصد عام لوگوں میں اس حوالے سے بحث کا آغاز ہے۔ اس خاتون کے بقول وہ اسلامی قوانین کا احترام کرتی ہیں۔ ابھی تک ان کی سزا کو سرعام عمل درآمد کے سلسلے میں کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔

کرتیکا ساری دیوی سوکارنو ملائیشیا کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں اس اسلامی ملک میں یہ سزا دی جائے گی۔ سوکارنو دسمبر 2007 میں ایک ہوٹل میں بیئر پی رہی تھیں جب ہوٹل پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں موجود متعدد افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ کرتیکا بیئر پینے کا جرم ثابت ہونے پر قریب 1400 امریکی ڈالر کے برابر جرمانہ بھی ادا کرچکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انہیں سزا سنائی گئی تھی تو وہ روئی نہیں تھیں بلکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا انہیں اب اس سے نمٹنا ہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ملائیشیا میں نہ صرف کرتیکا سوکارنو کو دی جانے والی اس سزا کو ہتک آمیز قرار دیا ہے بلکہ اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے جب اس ملک میں مذہب کا عمومی اور سماجی کردار وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔

ملائیشیا میں اگرچہ بہت سے مذاہب کے لوگ آباد ہیں تاہم ملک میں دو قسم کے قوانین رائج ہیں۔ ایک مسلمانوں کے لئے جبکہ دوسرا غیر مسلموں کے لئے۔ مسلمان ملک کی مجموعی 27 ملین آبادی کا 60 فیصد بنتے ہیں۔ اگرچہ ملک میں شراب نوشی ممنوع ہے تاہم کئی مسلمان مختلف بارز اور نائٹ کلبوں میں شراب نوشی کرتے پائے جاتے ہیں۔

چار مختلف عدالتوں میں بہت سی پیشیوں کے باعث کرتیکا کو ایک ہسپتال میں اپنی نوکری سے ہاتھ بھی دھونا پڑا اور اس کے بعد سے کرتیکا نے جز وقتی ماڈلنگ شروع کر دی۔

ملائیشیا میں ایک خاتون کو بیئر پینے پر بید مارے جانے کی یہ سزا بہت عجیب ہے جس کا ذکر بیرونی دنیا میں سننے میں آ رہا ہے۔ یہ مقدمہ ملکی سطح پر ایک قومی بحث کا حصہ بن گیا ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ملائیشیا کی ریاستی تاریخ میں پہلی بار ایسا مسلمانوں کے لئے اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے، حالانکہ مجموعی طور پر ملائیشیا کو بہت زیادہ مذہبی برداشت والا معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: میرا جمال

ادارت: مقبول ملک