ملائیشیائی ریاست ٹرانس جینڈرز کا ’علاج‘ کرے گی | صحت | DW | 30.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ملائیشیائی ریاست ٹرانس جینڈرز کا ’علاج‘ کرے گی

ملائیشیا کی ایک ریاست نے ہیجڑوں یا ٹرانسجینڈرز میں ذہنی و شعوری تبدیلی پیدا کرنے کے طبی سلسلے کو اگلے برس شروع کرے گی۔ ریاستی حکومت کے پلان پر ہم جنس پرستوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشرقِ بعید کے مسلمان آبادی والے ملک ملائیشیا کی ایک ریاست تیرنگانو کے اعلیٰ حکومتی اہلکار نے بتایا ہے کہ اُن کی ریاست ہیجڑوں کے لیے ایک خصوصی تربیتی پروگرام شروع کر رہی ہے اور یہ اُن کی مجموعی شخصیت کو تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ تیرگانو ریاست میں حال ہی میں ہیجڑوں کی آبادی کے حوالے سے ایک سروے بھی مکمل کیا گیا ہے۔

خواجہ سراؤں کو امریکی فوج میں نہیں رکھا جائے گا، ٹرمپ

ہم جنس پرستوں کی شادی، چینی معاشرہ بھی متاثر ہو سکتا ہے

بھارت: تیسری جنس کے لیے پہلا اسکول لیکن صنفی امتیاز جاری

پاکستانی ہیجڑوں کے دکھ کون سنے؟

ملائیشیائی ریاست کے ایک اہلکار غزالی طالب نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس کورس میں شرکت رضاکارانہ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ کورس میں شرکت کرنے والے ہیجڑوں یا ٹرانسجینڈرز کو طبی معلومات کے ساتھ ساتھ اُن کی ’نفسیاتی تطہیر‘ بھی کی جائے گی۔ اس خصوصی تربیتی پروگرام میں شریک ہونے والے مذہبی اسکالروں سے بھی گفتگو کریں گے۔

غزالی طالب تیرگانو ریاست کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسی ہیجڑا نما خواتین جو اب نارمل زندگی بسر کر رہی ہیں، اُن کو خاص طور پر نئے شریک ہونے والے ہیجڑوں کے ساتھ ملوانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور یہ کورس کے شرکاء کو اپنی نارمل زندگی کے بارے میں مفید معلومات فراہم کریں گی۔

CSD Berlin (picture-alliance/E. Contini/NurPhoto)

ٹرانسجینڈرز کے حقوق کی تنظیمیں کئی ممالک میں سرگرم ہیں

اس کورس کے شرکاء کو جبراً شریک کرنے حوالے سے غزالی طالب نے کہا کہ حکومت کی کوئی منشا اور مرضی نہیں کہ ان افراد کو تربیتی پروگرام میں زور اور زبردستی سے شامل کیا جائے۔ اس کورس کے حوالے سے تیرنگانو کے ہیجڑوں کے حقوق کی تنظیم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیجڑوں کے حقوق کی تنظیم جسٹس فار سِسٹرز کی شریک چیرمین تھیلاگا صلاح تری کا کہنا ہے کہ اس کورس کے پروگرام سے اُن کی کمیونٹی کے افراد کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ہیجڑوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن نِشا ایوب کا کہنا ہے کہ اس کورس سے اُن کی کمیونٹی معاشرے میں مزید تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے اور یہ اُن کے حقوق کے منافی ہو گا۔

 

DW.COM