1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ملائشیا میں اصلاحات پسندوں کو کریک ڈاؤن کا سامنا

مشرق بعید کے ملک ملائشیا میں متنازعہ انتخابی قوانین کے خلاف ریلی نکالنے والوں اور شرکاء کو حکومتی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے اور اس باعث عالمی توجہ کوالالم پور حکومت پر مرکوز ہے۔

default

کل ہفتہ کے روز ملائشیا کی اپوزیشن پارٹیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ غیر سرکاری تنظیموں نے انتخابی قوانین کے خلاف ایک پرامن مظاہرے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ اس پرامن مظاہرے کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا۔ منتظمین نےاس پرامن مظاہرے کے لیے کوئی ایک مقام مخصوص نہیں کیا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کوالالم پور کی کئی اہم گلیوں میں ایک ساتھ بے شمار افراد مختلف چھوٹے جلوسوں میں شریک ہو کر نیشنل پیلس کے باہر اکھٹے ہوں اور پھر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔

Najib Abdul Razak

نجیب عبدالزاق: وزیر اعظم ملائشیا

اس پرامن مظاہرے کا اعلان حکومتی حلقوں میں قطعاً پسند نہیں کیا گیا۔ حکومت انتخابی قوانین کو درست اور شفاف قرار دیتی ہے۔ اس ریلی کو حکومت نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ ملائشیا میں پانچ سے زائد افراد کا کھلے مقام پر جمع ہونا بھی خلاف قانون ہو گا اور ایسا کرنے کے لیے بھی سرکاری اجازت درکار ہو گی۔ ریلی کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ حکومت نے ریلی کے لیے متحرک افراد کی گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد دو سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے پوچھ گچھ بھی شروع ہے۔

ریلی کے منتظمین نے ریلی کے شرکاء کے لیے زرد رنگ کی ٹی شرٹس کو منتخب کیا تھا اور اس پر ملائی زبان میں Bersih لکھا ہے۔ اس کا مطلب تطہیر ہے۔ ایسی ٹی شرٹس پہنے ہوئے افراد کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور گرفتاریاں کمیونزم کے احیاء یا حکومت کا تختہ الٹانے کے زمرے میں لائی گئی ہیں۔ کوالالم پور میں راستوں کو بلاک کرنے کا عمل بھی شروع ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومتی مشینری ریلی میں شرکت کے خواہشمند حضرات کی حوصلہ شکنی ہر ممکن طریقے سے کر رہی ہے۔

Malaysia Wahlen

ملائشیا میں سابقہ انتخابات پر گہما گہمی

ملائشیا کے ایک صوبے پنانگ میں اپوزیشن کی سوشلسٹ پارٹی کے اراکین کو مقید کرنے کا عمل شروع ہے۔ اس حوالے سے ایک رکن پارلیمنٹ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ملائشیا میں انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے وزیر اعظم نجیب رازق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورت حال میں بہتری پیدا کریں تا کہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم اداروں اور عام انسانوں میں اطمینان کی صورت حال پیدا ہو سکے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نجیب رازق نے کریک ڈاؤن کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے گرفتاریوں کو سکیورٹی قوانین کے تحت جائز اور درست قرار دیا ہے۔

اس صورت حال میں ہفتہ کے روز کوالالم پور میں ممکنہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کے علاوہ مظاہروں کے پرتشدد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ملائشیا کے دارالحکومت میں تناؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور منتظمین کے درمیان ریلی کے مقام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ریلی کے منتظمین نے سڑکوں کی جگہ اسٹیڈیم کو متبادل کے طور پر پیش کیا تھا لیکن حکومت متفق دکھائی نہیں دیتی۔ ملائشیا میں اگلے عام انتخابات سن دو ہزار تیرہ میں ہوں گے ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس